انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 97

انوار العلوم جلد ۸ ۹۷ اساس الاتحاد کی طرف کھنچا چلا جائے گا اور ہزار صلح بھی ہو رسول کریم کی ہتک کرنے والی قوم سے صلح نہیں رکھ سکے گا کیونکہ اس کے ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے تو وہ صلح کرلے لیکن ان بد بخت لوگوں سے صلح نہ کرے جو اس مقدس وجود کو گالیاں دیتے ہیں جس کے احسان کے نیچے ہماری گردنیں جھکی پڑی ہیں اور جس کی جوتیوں کی خاک ہمارے سروں کے لئے باعث عزت ہے۔ تیسرا امر جس کے بغیر صلح مکمل اور دیر پا نہیں ہو سکتی یہ ہے کہ اقوام آپس میں معاہدہ کریں کہ مذہبی مناقشات اور مباحثات اور مباحثات میں محبت اور تحقیق کو چھوڑ کر لڑائی اور جھگڑے کی طرح نہ ڈالی جائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سیاست کے فیصلہ کے ساتھ مذہب کا کیا تعلق ہے لیکن یہ خیال درست نہیں جب دو قوموں میں لڑائی ہوتی ہے تو وہ کبھی اسی تک محدود نہیں رہتی جس کے متعلق لڑائی ہو بلکہ وہ اپنا دامن وسیع کرتی ہے اور آخر ہر ایک چیز کا احاطہ کر لیتی ہے پس اگر مذہبی لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہایا اس کے اسباب موجود رہے تو کبھی بھی صلح قائم نہ رہے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مدعا کس طرح حاصل کیا جائے؟ بعض لوگ اس کا یہ علاج بتاتے ہیں کہ مذہبی مباحثات کا سلسلہ ہی بالکل بند کر دیا جائے لیکن یہ تدبیر غیر طبعی ہے ایک طرف تو افراد ملک کے اندر یہ جوش پیدا کرنا کہ ہرا چھٹی چیز کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور دوسری طرف ان کو مذہب میں دلچسپی لینے سے روکنا یہ ایسی متضاد باتیں ہیں کہ کبھی جمع نہیں ہو سکتیں۔ اور مذہب تو ایسی طاقت ہے کہ اسے یورپ کی مادہ پرستی نہیں دبا سکی۔ ایشیا کی بوئے عرفان سے بھی ہوئی ہواؤں کی موجودگی میں اس کی شگفتگی کو کون روک سکتا ہے۔ پس وہی تجویز یہاں کامیاب ہو سکتی ہے جو ایک طرف تو مذہب کی حدود میں دست اندازی نہ کرے اور دوسری طرف ایسی حد بندیاں مقرر کر دے جو فسادات کے احتمال کو یا بالکل روک دیں یا اس حد تک کم کردیں کہ اس کو آسانی اور سہولت سے دبایا جاسکے اور یہ غرض میرے نزدیک صرف ان ہی تجاویز سے پوری ہو سکتی ہے جو الحکم العدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے پیش فرمائی ہیں۔ ہم بارہا گورنمنٹ کو ان کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں لیکن گورنمنٹ ان کی خوبی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو نا قابل عمل قرار دیتی رہی ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ گورنمنٹ کا یہ جواب درست نہیں۔ یہ تجاویز بآسانی عمل میں آسکتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ملک میں امن قائم کیا جاسکتا ہے اور میں آج آپ لوگوں کے سامنے ان کو اس امید سے