انوارالعلوم (جلد 8) — Page 94
انوارالعلوم جلد ۸ وحدت کا خیال پیدا ہو جائے ۔ ۹۴ اساس الاتحاد اس غرض کے پورا کرنے کے لئے جب انہوں نے ہندوستان کے مختلف مذاہب پر جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں غور کیا تو ان کو تمام قو میں تین باتوں میں سے کسی نہ کسی پر جمع نظر آئیں۔ (۱) بعض قو میں ویدوں کے الہامی ہونے پر متفق تھیں۔ (۲) بعض تناسخ کے مسئلہ پر (۳) بعض گائے کی عظمت اور حرمت پر ۔ غرض گل ہندو مذاہب ان تین مسائل میں سے کسی نہ کسی مذہب کے ماننے والے تھے جیسے مثلاً جینی وید کو نہیں مانتے لیکن تناسخ کے قائل ہیں سکھ تناسخ کو نہیں مانتے مگر گائے کی عظمت ان کے دلوں میں بھی ہے بلکہ انہوں نے اس امر کو بھی معلوم کیا کہ ہندو مذاہب اسقد روید پر جمع نہیں ہیں جس قدر کہ تاریخ اور کائے کی عظمت پر ۔ پس انہوں نے زیادہ تر ان ہی مسائل پر زور دینا شروع کیا تا کہ سب ہندو فرقوں میں ایک وحدت کا رشتہ ایسا پیدا ر ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بھلائے رکھیں۔ انہوں نے خصوصاً گائے کی عظمت پر زور دیا کیونکہ پہلے دونوں امر اعتقادی ہیں اور اس قدر وحدت کے پیدا کرنے کا موجب نہیں ہو سکتے لیکن گائے کی عظمت ایک نظری چیز ہے اس کی وجہ سے ان کے جوش تازہ رہنے کی زیادہ امید تھی اس تدبیر سے انہوں نے مختلف مذاہب کو ایک ہی نام سے جمع رکھنے کی تدبیر نکالی۔ پس اس مسئلہ پر زور ہرگز شرعی جذبات کے سبب سے نہیں دیا جاتا بلکہ سیاسی ضروریات کے سبب سے ۔ اگر مسلم لیڈر ان مضامین پر ہی اطلاع پالیتے جو الہ آباد کے لیڈرا اخبار میں ہندو مذہب کی تعریف کے متعلق ہندوؤں کے تمام سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی طرف سے نکلتے رہے ہیں اور جو بعد میں کتابی صورت میں چھپ کر شائع ہوئے ہیں تو ان پر اس امر کی حقیقت کھل جاتی۔ خلاصہ یہ کہ گائے کی عظمت ایک سیاسی مسئلہ ہے اور ہندو قوم کے لیڈروں نے اسے صرف ہندوستان میں پیدا ہونے والے مختلف مذاہب کو ایک رشتہ میں مسلک رکھنے کے لئے ایجاد کیا ہے۔ پس مسلمانوں سے گائے کی قربانی کے ترک کرنے کا مطالبہ کرنا بالکل نادرست اور ناواجب ہے یہ مسلمانوں کا فرض نہیں ہو سکتا کہ وہ ہندوؤں کے قومی اتحاد کے دواعی (بواعث۔ مرتب) اپنے قومی وحدت کے دوائی کو ترک کر کے مہیا کریں اتحاد کی بناء صرف اس امر پر رکھی جاسکتی ہے کہ ہر ایک قوم دوسرے کے مذہبی امور میں دخل نہ دے نہ اس پر کہ ایک قوم دو سرے کے ذہبی اور تمدنی امور کو اپنی مرضی کے مطابق طے کرانے کی کوشش کرے۔ کیا یہ بھی مثلا صلح کا