انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xii

(۴) اساس الاتحاد استقبالیہ کمیٹی و نمائندگان مسلم لیگ کا اجلاس مؤرخہ ۲۳ مئی ۱۹۲۴ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے قومی حقوق کی نگرانی اور ہندو مسلم اتحاد کے متعلق غور کرنا تھا۔ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو اجلاس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی اس لئے آپ نے ان امور کے متعلق اپنا مشورہ طبع کروا کر اپنے نمائندوں کے ذریعہ اجلاس میں بھجوایا۔ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے حضور نے فرمایا کہ سب سے پہلے مسلمان اپنی جداگانہ ہستی کا احساس کریں اور ایک مستقل تنظیم (Organisation) بنائیں۔ حضور نے اس آرگنائیزیشن یا مسلم لیگ کیلئے کہا کہ وہ سب مسلمان کہلانے والوں کی نمائندہ ہو خواہ وہ کسی سیاسی نقطہ نگاہ کے مؤید ہوں کیونکہ غیر مسلم بھی سیاست ان میں فرق نہیں کرتے۔ دعوئی اسلام کرنے والے ہر شخص کیلئے اس کے دروازوں کو کھلا رکھا جائے نیز لفظ «مسلم “ کا وسیع تر سیاسی مفہوم بھی واضح فرمایا ۔ ہندو مسلم اتحاد کے متعلق گذشتہ صلح نامہ میں چار نقائص بیان کر کے حضور نے فرمایا۔ میں ان امور کی طرف شروع سے توجہ دلاتا رہا ہوں اور اس نتیجہ سے ڈارتا رہا ہوں جو آب نکلا ہے۔“ ہندو مسلم اتحاد کو پائیدار اور مؤثر بنانے کیلئے حضرت المصلح الموعود نے تفصیل کے ساتھ دس نکاتی حتمی تجاویز پیش فرمانے کے بعد تحریر فرمایا۔ اے برادران! یہ مختصر خاکہ ہے اس سکیم کا جس پر عمل کرنے سے میرے نزدیک مسلمانوں کے اپنے حقوق بھی محفوظ ہو سکتے ہیں اور دوسری قوموں سے بھی ان کے تعلقات درست ہو سکتے ہیں۔ میں نے باوجود کم فرصتی اور کاموں کی کثرت کے آپ لوگوں کے سامنے اس سکیم کو پیش کر دیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ جس اخلاص سے یہ لکھی گئی ہے اس اخلاص سے آپ اس پر غور فرمائیں گے۔ مسلمانوں کی بہتری اور ہندوستان کیا گل دنیا کے امن کا خیال جس زور سے میرے دل میں موجزن ہے آپ لوگ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔ اللہ تعالیٰ اس امر پر شاہد ہے کہ