انوارالعلوم (جلد 8) — Page 78
انوار العلوم جلد ۸ قول الحق ہو کہ مولوی شاء اللہ یا مولوی مرتضی حسن محمد ﷺ کے صحابیوں کا نمونہ ہیں۔ یا کسی غیر کو جانے یا دو آپ ہی کھڑے ہو کر کہہ دو کہ تم لوگ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کا نمونہ ہو۔ تمہارا منہ نہیں ہے کہ اپنے متعلق آپ بھی یہ کہہ سکو لیکن ہمارے متعلق ہمارے دشمن یہ کہہ رہے ہیں۔ پس میں پوچھتا ہوں آخر صداقت کا کوئی ثبوت بھی وہ سارے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ہوتا ہے کہ نہیں اگر ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو جو بھی ہے وہ سا کا سارا حضرت مرزا صاحب کے لئے موجود ہے۔ حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا ہ ہوا، محمد اللہ کا نام زندہ ہوا خدا کی توحید زندہ ہوئی ، ہر نیکی زندہ ہوئی ، ہرنبی قرآن کریم زندہ ہوا زندہ ہوا، ہر راستباز نے دوبارہ حیات پائی پس حضرت مسیح موعود کوئی معمولی انسان نہ تھے آپ نے رسولوں اور ان کی تعلیموں کو زندہ کیا ہے۔ پہلے مسیح نے تو بقول غیر احمد یاں چند ماچھیوں کو زندہ کیا تھا مگر اس نے نبیوں کو زندہ کیا ہے پھر بھی کہتے ہیں اس نے کیا کیا۔ وہ کونسی خوبی اور وہ کونسی صداقت ہے جو کسی نبی میں پائی جاتی ہے مگر حضرت مرزا صاحب میں نہیں۔ تم لوگ اعتراض کی زبان دراز کرتے ہو کرو مگر یہ تو بتاؤ تمہارا کون سا اعتراض ہے جو پہلے غیوں پر نہیں پڑتا۔ پھر تمہیں کس بات کا انتظار ہے سورج چڑھ آیا خدا کا نبی آگیا، اسلام کو اس نے زندہ کیا اور دشمنوں نے مان لیا مگر اے محمد اللہ کے نام لیواؤ اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والو! کیا تمہیں اسلام کا زندہ ہونا پسند نہیں آیا اور تم نے اسلام کی زندگی کے مقابلہ میں اپنے نفسوں کو موٹا کرنا ضروری سمجھا کاش ، تمہیں تمہاری مائیں نہ جنتیں اور اگر جنتیں تو اس وقت سے قبل تم مر جاتے کہ تمہارے جسم اور ناپاک جسم اسلام کی طرف منسوب ہو کر باعث شرم بنتے۔ اسلام کی ایک ایک بات کو لے کر تم نے اسے بد نام کیا مولویوں نے اسلام کو بد نام کیا اور غیروں کی نظروں میں حقیر ٹھرایا ہے۔ تم نے کہا ہندوستان سے ہجرت کر جانا قرآن کا حکم انا قرآن کا حکم ہے لیکن اے بے شرمو! پھر تم نے خود ہی لوگوں کو کہا کہ ہجرت نہ کرو۔ تم نے کہا انگریزوں سے : کہا انگریزوں سے ترک موالات کرنا اسلام کا حکم ہے موالات کرنا اسلام کا حکم ہے مگر اے بے شرمو ! تم نے خود اس کی خلاف ورزی کی۔ تم کہتے تھے خلافت لڑکی کے بغیر اسلام زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ اسلام کے لئے نہایت اہم اور ضروری چیز ہے لیکن اے بے حیاؤ ! کان سے پکڑ کر ایک خلیفہ کو نہیں بلکہ دو کو ملک سے نکال دیا گیا خلافت کا نام تک مٹا دیا گیا مگر تم نے لب تک نہ ہلائے۔