انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page x

صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق کہتا ہے کہ ان کی لائی ہوئی شریعت منسوخ ہو گئی اور بہاء اللہ کا درجہ آپ سے بڑا ہے اس کے ساتھ ہمارا ذرا بھی تعلق نہیں ہو سکتا۔" آپ نے بڑے پر جلال انداز میں بہاء اللہ کے خلیفہ کو کلام الہی اور قبولیت دعا کا چیلنج دیا اور بہائی مذہب کی تباہی کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا۔ آج تک جو قوم ہمارے مقابلہ میں آئی اس کو خدا نے تباہ کیا۔ اب اس کو خدا نے لا کھڑا کیا ہے۔ اب بھی ویسی ہی مثال ہوگی کہ ہم کونے کا پتھر ہیں جو اس پر کیا گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور جس پر یہ گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ہم اللہ کے دعوؤں اور نصرتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ قوم احمد یہ جماعت کے ذریعہ تھوڑے سے عرصہ میں مٹائی جائے گی اور اس کا سارا گند ظاہر ہو جائے گا۔" حضور نے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا۔ آج میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی مذہب دعا سے مقابلہ کرلے۔ میرے مقابلہ میں دعا کر کے دیکھ لے کہ خدا میری مدد کرتا ہے یا اس کی۔ اور میں یہ اپنے متعلق نہیں کہتا میرے مرنے کے بعد بھی لمبے عرصہ تک جماعت احمدیہ میں ایسے انسان ہونگے کہ جو نشان دکھا ئیں گے۔“ (۳) قول الحق یکم تا تین اپریل ۱۹۲۴ء کو غیر احمدی علماء نے قادیان میں جلسہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف انتہائی بد زبانی کر کے احمدیوں کی سخت دل آزاری کی۔ حضرت المصلح الموعود نے ۳۔ اپریل کو مسجد اقصیٰ میں ایک بڑے مجمع کے سامنے تقریر میں ان کی بد زبانیوں کی قلعی کھولی۔ یہ تقریر بعد میں " قول الحق" کے نام سے شائع ہوئی۔ حضرت المصلح الموعود نے ان مولویوں کے موٹے موٹے بائیس اعتراضات کے اپنی تقریر میں مفصل و مدلل جواب پیش فرمائے اور بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا کہ کس طرح