انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 78

انوار العلوم - جلدے نجات محدود ۳۶۔ جو شقی ہو گئے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے جس میں سے شدت کی وجہ سے آوازیں نکلیں گی۔ وہ اس میں اس وقت تک رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے سوائے اس کے کہ تیرا رب کچھ اور ارادہ کرے۔ تیرا رب اپنے ارادہ کو پورا کرنے والا ہے۔ اور وہ لوگ جو سعید ہوں گے وہ جنت میں رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین رہیں سوائے اس کے کہ تیرا رب کچھ اور چاہے مگر یہ نعمت ان کی کائی نہیں جائے گی اور کبھی اس سے ان کو محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہاں سعید اور شقی انسانوں کی حالت کا مقابلہ کیا ہے۔ جہنمیوں کے متعلق تو فرماتا ہے کہ ہم ان کو جنم سے نکال سکتے ہیں اور ہمارے ارادہ کو کون روک سکتا ہے لیکن مومنوں کے لئے فرماتا ہے کہ اگر چاہیں تو ان کو بھی نکال سکتے ہیں مگر ہم نے یہی چاہا ہے کہ ان کے انعام کو کبھی ختم نہ کریں۔ اس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیوں کو جنم سے نکلنے کی امید دلائی گئی ہے لیکن جنتیوں کو اس انعام کے کبھی نہ ہٹانے کے وعدہ سے مطمئن کیا گیا ہے۔ پھر فرماتا ہے قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۔ فساكُتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكُوةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِايْتِنَا يُؤْمِنُونَ ٣٤ میں عذاب پہنچاؤں گا اس کو جس کو عذاب کے لائق سمجھوں گا اور میری رحمت وسیع ہے کل چیزوں پر عذاب بھی اس کے حلقہ میں ہے۔ اور میں فرض کردوں گا رحمت کو ان پر جو متقی ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور میری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ میں اس آیت کی بجائے خود تشریح کرنے کے ابن عربی کا ایک لطیفہ اس آیت کے متعلق بیان کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں سہیل ایک بزرگ گزرے ہیں ان کا شیطان سے مقابلہ ہوا۔ سہیل نے کہا کہ تو کبھی نہیں بخشا جائے گا۔ شیطان نے اپنی تائید میں مندرجہ بالا آیت پڑھی اور نتیجہ نکالا کہ آخر میں بھی بخشا جاؤں گا۔ انہوں نے کہا یہاں قید بھی تو لگی ہوئی ہے کہ میں اپنی رحمت کو مومن اور متقی بندوں کے ساتھ مخصوص کروں گا۔ شیطان نے کہا خداتعالی کے لئے قید نہیں ہوتی قید تو بندوں کے لئے ہوتی ہے۔ اس پر سہیل کہتے ہیں میں شرمندہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ جیت گیا۔ یہ تو خیر ایک لطیفہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو امور اس جگہ بیان کئے گئے ہیں بطور شرط کے نہیں ہیں بلکہ اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جنت میں جانے والے لوگ دو قسم کے ہوں گے۔