انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 76

انوار العلوم - جلدے 44 گئی تو اس کا اس میں کیا قصور ہے اس کو تو ابدی نجات ملنی چاہئے۔ تیسرے یہ کہ نجات ذاتی پاکیزگی کا نام ہے اور جب پاکیزگی حاصل ہو گئی تو پھر اس سے گرانا سخت بے انصافی ہے جب تک ذات میں برا تغیر نہ ہو عذاب میں نہیں ڈالا جا سکتا اور وہاں برا تغیر ہو نہیں سکتا کیونکہ اعمال ختم ہو گئے پس یہ غلط ہے کہ نجات محدود ہوگی۔ ہو گی۔ اب یہ سوال ہے کہ کیا نجات سب انسانوں کا حق کیا نجات سب کا حق ہے یا بعض کا؟ ہے یا بعض کا؟ یہودیوں کے نزدیک خاص کا ہی حق ہے۔ وہ کہتے ہیں صرف یہودی نجات پائیں گے ۔ ہندوؤں کے نزدیک ہر ایک انسان نجات پا سکتا ہے مگر وہی جو اپنے اعمال کے زور سے پائے ۔ ان کے نزدیک فضل کوئی چیز نہیں ہے گویا وہ یہ مانتے ہیں کہ ہر شخص نجات پاسکتا ہے مگر یہ نہیں کہتے کہ ہر ایک پاتا بھی ہے۔ مسیحیوں کے نزدیک ہر شخص نجات پاسکتا ہے مگر جس نے اس دنیا میں نہ پائی وہ پھر نہیں پاسکتا۔ پارسیوں اور مسلمانوں کا خیال آپس میں ملتا ہے۔ پارسی کہتے ہیں ہر شخص نجات پائے گا صرف آگے پیچھے کا فرق ہو گا۔ بعض لوگ عذاب کو پاکر نجات پائیں گے اور بعض پہلے ہی ہیں اسلام کا عقیدہ ہے۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر مندرجہ ذیل آیات میں کیا ہے۔ پہلی آیت جو اصل اصول ہے اس میں بندہ کی پیدائش کی غرض یہ بیان کرتا ہے کہ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ - ۳۲- انسان اور جن کو پیدا ہی عبادت کے لئے کیا گیا ہے۔ پس جب انسان پیدا ہی اس غرض کے لئے کیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ہر بندہ اس غرض کو پورا کرنے والوں میں شامل ہو جائے اور یہی نجات ہے۔ دوسری جگہ یوں تشریح کی ہے کہ فَادْخُلِی فِی عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ۳۳۔ میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔ نجات اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بننے کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسان جنت میں داخل ہو جائے ۔ پس جب کہ ہر ایک شخص کو اللہ تعالی نے بندہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ضرور ہے کہ کسی نہ کسی وقت اس کو وہ پورا کرنے والا ہو جائے اور جب بھی وہ اس کو پورا کرے گا ضرور ہے کہ دوسرے قاعدے کے مطابق اپنے آقا کی جنت میں داخل ہو جائے اور یہی نجات ہے۔ پھر فرماتا ہے ۔ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ