انوارالعلوم (جلد 7) — Page ix
انوار العلوم جلد ۷ تعارف کتب (۲) نجات سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۸- دسمبر ۱۹۲۲ء کو جلسہ سالانہ کے آخری روز جو اختتامی تقریر فرمائی اس میں حضور نے مسئلہ نجات پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے مختلف اور اہم پہلوؤں کو بڑی وضاحت سے بصیرت افروز انداز میں بیان فرمایا ہے۔ حضور نے اپنی اس تقریر میں بتایا ہے کہ نجات فطرت انسانی میں داخل ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تمام مذاہب کے پیروکاروں میں نجات کا تصور کسی نہ کسی رنگ میں موجود ہے۔ اس ضمن میں حضور نے مختلف مذاہب میں پائے جانے والے نجات کے تصورات اور ان تصورات کے بالمقابل اسلام کے تصور فلاح" کو پیش فرمایا ہے۔ اور بتایا کہ اسلام میں نجات یا فلاح سے مراد یہ ہے کہ انسان اس غرض کیلئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خدا سے لے اس غرض کو حاصل کر لینا ہی فلاح ہے۔ نجات یا فلاح کی اس تعریف کے ساتھ ساتھ حضور نے نجات کی سات اقسام اور نجات حاصل کرنے والوں کی گیارہ علامات بھی بیان فرمائی ہیں۔ علاوہ ازیں حضور نے اس تقریر میں نجات کے حوالہ سے بعض اعتراضات کے جواب بھی ارشاد فرمائے ہیں۔ اور ہندوؤں کے عقیدہ تاریخ کا رد فرمایا ہے۔ (۳) تقارير ثلاثه سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے لجنہ اماء اللہ کے جلسہ منعقدہ ۵- فروری ۱۱- فروری اور ۵- مارچ ۱۹۲۳ء میں تین تقاریر فرمائیں۔ جو تقاریر ثلاثہ کے نام سے موسوم ہیں۔ ان تقاریر میں حضور نے دینی اور دنیاوی علوم کا مختصہ کا مختصر تعارف اور کیفیت بیان فرمائی ہے۔ یہ تقاریر " خزينة العلوم" کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ تقریر اول مورخه ۵- فروری ۱۹۲۳ء کو حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماء اللہ کے جلسہ میں تقریر فرمائی یہ ایک نہایت بلند پایہ علمی تقریر تھی۔ حضور نے فرمایا۔ علم کی ترقی کے لئے یہ