انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 66

انوار العلوم - جلدے ५५ کو بھی یہ خیال تھا کہ اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعود کو بڑا صدمہ ہو گا۔ آخری وقت حضرت مولوی صاحب اس کی نبض دیکھ رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود کو کہا مٹک لائیں اور چونکہ اس کی نبض بند ہو رہی تھی۔ آپ پر اس خیال کا کہ اس کی وفات سے حضرت مسیح موعود کو بہت صدمہ ہو گا اس قدر اثر ہوا کہ آپ کھڑے کھڑے زمین پر گر گئے مگر جب حضرت مسیح موعود کو معلوم ہوا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے تو اسی وقت نہایت صبر کے ساتھ دوستوں کو خطوط لکھنے لگ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے مگر اس امر پر گھبرانا نہیں چاہئے یہ اللہ تعالٰی کی ایک مشیت تھی جس پر ہمیں صبر کرنا چاہئے اور پھر باہر آکر مسکرا مسکرا کر تقریر کرنے لگے کہ مبارک احمد کے متعلق خدا تعالی کا جو الہام تھا وہ پورا ہو گیا۔ چنانچہ آپ کا شعر بھی ہے۔ بلانے والا ای 4 سب سے پیارا اے دل تو جان فدا کر غرض ابتلاء میں دکھ کی حقیقت معلوم ہوتے ہوئے اس کا اثر قلب پر ہمت شکن نہیں ہوتا کیونکہ انسان سمجھتا ہے کہ میں ادنی کو اعلیٰ پر قربان کر رہا ہوں۔ بعض اوقات سخت عذاب میں بھی احساس تکلیف مٹ جاتا ہے مگر یہ اختلال حواس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے ایک عورت دکھائی اور اس سے پوچھا تمہارے فلاں رشتہ دار کا کیا حال ہے؟ اس نے نہس کر بتایا وہ تو مر گیا ہے ۔ اس طرح ایک دو اور رشتہ داروں کے متعلق پوچھا اور وہ ہنس ہنس کر بتاتی رہی۔ وہ معرفت کے لحاظ سے اس طرح نہیں کرتی تھی بلکہ اس کو بیماری تھی اس میں غم محسوس کرنے کی حس ہی باقی نہ رہی تھی۔ (۱۲) چھٹا فرق یہ ہے کہ عذاب میں روحانیت کم ہو جاتی ہے مگر ابتلاء میں زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ عذاب میں خدا تعالی سے دوری ہو جاتی ہے مگر ابتلاء میں اور زیادہ توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو جاتی ہے۔ یہ موٹے موٹے چھ فرق ابتلاء اور عذاب میں ہیں۔ پس یہ سچ ہے کہ دنیاوی تکالیف سے بھی نجات ملتی ہے مگر یہ غلط ہے کہ سب دنیاوی تکالیف عذاب ہوتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ تکالیف عذاب ہوتی ہیں کچھ طبیعی نتائج ہوتے ہیں اور کچھ انسان کی روحانیت کی ترقی کے لئے ہوتی ہیں۔ نجات