انوارالعلوم (جلد 7) — Page 59
انوار العلوم - جلدے ۵۹ نجات نجات پا جاتا ہے کیونکہ جب انسان نے خدا کو دیکھ لیا تو ہر قسم کا شک و شبہ دور ہو گیا۔ کیا نجات ممکن ہے؟ یہ سات اقسام نجات کی ہیں۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کیا نجات ممکن ہے ؟ یہ سوال انسانی نظہ نگہ سے ایک بڑا اہم سوال ہے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ کیا نجات اس دنیا میں ممکن ہے؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا نجات کسی وقت بھی ممکن ہے؟ پہلے سوال کا جواب ہندو نقطہ خیال سے نفی میں ہے کیونکہ جب وہ جون میں آنے کو عذاب کہتے ہیں تو ان کے نزدیک اس دنیا میں نجات کیسی ؟ پھر اس لحاظ سے بھی ان کا جواب نفی میں ہے کہ وہ نجات کہتے ہیں دکھ سکھ سے بیچ جانے کو مگر یہ تو اس دنیا میں لگے ہی رہیں گے اس لئے ان کے خیال کی رو سے اس دنیا میں نجات بھی نہیں ہو سکتی۔ بدھ نقطہ نگاہ سے بھی اس دنیا میں نجات نا ممکن ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں اس جسم سے چھوٹ جانا نجات ہے ۔ اسی طرح جینی کہتے ہیں اس لئے ان کے لحاظ سے بھی اس دنیا میں نجات نا ممکن ہے۔ زرتشتی نقطہ نگاہ سے اس کا یہ جواب ہو گا کہ یہ سوال ہی عبث ہے کیونکہ نجات تو آخرت کے عذاب سے بچنے کا نام ہے۔ یهودی نقطہ نگاہ سے یہوواہ کے عذاب سے اس جہان میں بچ جانا ممکن ہے۔ مسیحی نقطہ نگاہ سے نجات کا ایک حصہ اس دنیا میں مل سکتا ہے اور ایک نہیں۔ جو حصہ اس دنیا میں مل سکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان گناہ سے بچ جائے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ گناہ کے نتیجہ سے بچ جائے ۔ یہ آگے جا کر ہو گا۔ اسلام کے نزدیک بھی اس کے دو جواب ہوں گے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے فلاح کی کئی تعریفیں ہیں ان میں سے کچھ اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ آئندہ ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ جتنی باتیں اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں وہ اس دنیا میں حاصل ہو سکتی ہیں اور جو اگلے جہان سے تعلق رکھتی ہیں وہ وہاں جا کر حاصل ہوں گی۔ سوال دوم کا جواب یہ ہے کہ سارے مذاہب کہتے ہیں کہ نجات ممکن ہے۔ یہاں پھر سب مذاہب کا اتحاد ہو گیا۔ اب میں تفصیلی طور پر بیان کرتا ہوں۔ کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے نجات کس کس چیز سے ہو سکتی ہے۔