انوارالعلوم (جلد 7) — Page 57
انوار العلوم - جلدے ۵۷ کسی اور طرح سے اسی طرح خدا تعالی کو مل کر نجات ملتی ہے۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور شاید اسلامی فلاح اور ہندوؤں کی نجات میں فرق بعض لوگوں کو پیدا ہوا ہو کہ کیا نجات نجات کی یہ تعریف ہندو مذہب کی نجات سے تو نہیں ملتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہندو مذہب نجات کی جو تعریف کرتا ہے وہ فلاح نہیں ہو سکتی کیونکہ ہندوؤں کے نزدیک خدا کا ملنا یہ ہے کہ انسان میں کوئی حس نہ رہے۔ مگر فلاح کے معنی ہیں لے لیا اور پالیا اور اس کے لئے جس کی ضرورت ہے کیونکہ جس نے حس کھو دی اس نے تو سب کچھ کھو دیا نہ کہ کچھ پایا اس لئے ہندو مذہب جس امر کو نجات قرار دیتا ہے وہ فلاح نہیں کہلا سکتی ۔ فلاح وہ ہے جو اسلام نے پیش کی ہے کہ سب کچھ پالیا۔ ہندو مذہب کی نجات تو ایسی ہے کہ کوئی شخص بیمار ہو اور مر جائے تو کے لو تکالیف سے چھٹی ہوئی۔ یہ ہندوؤں کے نزدیک نجات ہے مگر ہم یہ نہیں کہتے کیونکہ یہ تو مٹ جاتا ہے نہ کہ کچھ حاصل کرنا ہم نجات اس کو کہتے ہیں کہ انسان کے اندر خدا کی طاقتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خدا کی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے دائمی حیات دے دیتی ہیں۔ یہ دائمی نجات ہے فنا نہیں۔ اب آپ لوگوں نے اسلامی نجات کی تعریف سمجھ لی ہو گی اور یہی سب سے اعلیٰ نجات ہے۔ نجات کی اقسام اب میں یہ بتاتا ہوں کہ نجات کی کتنی اقسام ہیں ؟ :- نجات کی ایک پہلی قسم ہے جسے اوٹی کہنا چاہئے اور وہ دنیاوی عذاب سے پہلی قسم کی نجات نجات ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچ قسم کی نجات ہے۔ (1) جسمانی عذاب سے نجات۔ یعنی ایسی تکلیفوں سے بچ جانا جن کا اثر جسم انسانی پر پڑتا ہے جیسے بیماریاں وغیرہ (۲) دوسری نجات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ مالی مشکلات سے بچ جانا۔ (۳) تیسری نجات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ عَذَابَ الْهُونِ ۔ ۔ یعنی ذلت اور رسوائی کا عذاب جس میں انسان کی عزت پر حملہ ہوتا ہے اس سے بچ جانا۔ (۴) چوتھی نجات قرآن کریم سے حسرات کے عذاب سے بچ جانا معلوم ہوتی ہے یعنی احساسات کے عذاب سے بچتا۔ اس میں اور عزت کے متعلق عذاب میں فرق یہ ہے کہ اس میں انسان اپنے خلاف ایک بات دیکھتا ہے مگر اس کو مٹا نہیں سکتا اور اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے۔ جیسا کہ آتا ہے يَوْمَ يَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى