انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 48

انوار العلوم - جلدے ۴۸ نجات وہ مضمون کیا ہے ؟ وہ نجات کا مضمون ہے۔ دراصل انسان کو جو سب سے بڑی چیز مسئلہ نجات مطلوب ہے وہ نجات ہی ہے ۔ دنیا کی وہ چیزیں جو بڑی : - جو بڑی شاندار نظر آتی ہیں۔ اگر نجات نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ مشہور ہے جان ہے تو جہان ہے۔ ایک بیمار جو درد سے تڑپ رہا ہو وہ ستاروں اور جو پر غور کر کے لطف نہیں اٹھا سکتا، وہ سبزہ زار کو دیکھ کر حظ نہیں حاصل کر سکتا، وہ مختلف علوم سے دلچسپی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ خود دکھ میں ہے۔ یہی مضمون ہے جو میرے ان اشعار میں سے ایک میں ادا کیا گیا ہے جو کل پڑھے گئے ہیں۔ وہ شعر یہ ہے۔ : خلق و تکوین جہاں راست پر سچ پوچھو تو بات تب ہے کہ مری بگڑی بنائے کوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ میں مانتا ہوں خدا خالق ہے مگر میرے نقطہ خیال سے زمین و آسمان کا بنانا تب ہی فائدہ مند ہے جب کہ میری بگڑی بھی وہ بنا دے۔ اگر یہ نہیں تو زمین و آسمان کا بنانا مجھ پر اثر نہیں ڈال سکتا۔ تو یہ مضمون جو آگے میں بیان کرنے لگا ہوں ہمارے نقطہ نگاہ سے سب سے اہم ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ احباب اسے غور سے سنیں گے کیونکہ وہ ان کی نجات سے تعلق رکھتا اور نجات کے لئے مفید ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جب کسی مضمون کو بیان کیا جاتا ہے تو مضمون کا علمی اور عملی پہلو اس کا علمی پہلو بی لیا جاتا ہے اور عملی پہلو بھی۔ علمی پہلو بیان کرنے کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی مضمون علمی پہلو بیان کرنے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ کسی کام کو کرنے کے لئے کئی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے کرنے کا شوق ہو ۔ ایک ہی کام کو کئی لوگ کرتے ہیں مگر کچھ ہی لوگ اس میں بڑھتے اور امتیاز حاصل کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بڑھتے ہیں ان کو اس کام کے کرنے کا شوق ہوتا ہے اور دوسروں کو نہیں ہوتا۔ جن کو شوق ہوتا ہے وہ پورے طور پر اس کے کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے ایسا نہیں کرتے لیکن شوق علم کی تکمیل سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو جس شوق سے ایک کالج کا لڑکا پڑھتا ہے سکول کا لڑکا نہیں پڑھتا۔ عام طور پر کالج کا لڑکا فارغ پھر تا نظر آتا ہے حالانکہ اس کے کورس کی کتابیں حجم کے لحاظ سے سکول کے لڑکے کی کتابوں سے بڑی ہوتی ہیں مگر وہ شوق کی وجہ سے جلدی علم حاصل کرتا ہے یہ نسبت سکول کے لڑکے کے اس لئے وہ فرصت نکال لیتا ہے ۔