انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 595

انوار العلوم جلدے ۵۹۵ دارة الامير داریوں سے نہ گھبرائیے جو حق کو قبول کرنے سے انسان پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالی کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عنایتوں کو سوچتے ماننا ہوئے اس بوجھ کے نیچے اپنا کندھا دے دیجئے جس کا اٹھانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ آپ بادشاہ ہیں لیکن اللہ تعالی کے حضور آپ اور دوسرے انسان برابر ہیں جس طرح ان پر خدمت اسلام کا فرض ہے آپ پر بھی فرض ہے اور جس طرح ان کیلئے اللہ تعالی کے ماموروں ضروری ہے آپ کیلئے بھی ضروری ہے۔ پس اللہ تعالی کے حکموں اور اس کی تعلیموں کو قبول کیجئے۔ اور اس کے قائم کردہ سلسلے میں داخل ہو کر اللہ تعالی کے انعامات سے حصہ لیجئے کہ ان میں سب سے چھوٹا آپ کی ساری مملکت سے بڑا اور زیادہ قیمتی ہے۔ ۳۳۹ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں منْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَلَيْسَ مِنَّا پس اللہ تعالی کی قائم کردہ جماعت سے جدا رہنا نہایت خوف کا مقام ہے اور خصوصاً بادشاہوں کیلئے کہ ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ایک ان کی اپنی اور ایک ان کی رعایا کی بہت سے نادان دین کے معاملے میں بھی اپنے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہیں پس اللہ تعالی کے نزدیک ان کی غلطیوں کے ذمہ دار ان کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا تھا تو آپ نے اس کو اس امر کی طرف توجہ دلا کر حق کو جلد قبول کرنے کی ترغیب دی تھی اور تحریر فرمایا تھا کہ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِينَ ٣٣٩ کہ اگر تو نے انکار کر دیا تو تجھ پر زمینداروں کا گناہ بھی ہو گا۔ پس آپ حق کو قبول کر کے اپنی رعایا کے راستے سے وہ روک ہٹا دیں جو اب آپ کے راستے میں حائل ہے تاکہ اس کے گناہ آپ کو نہ دیئے جائیں بلکہ ان کی نیکیاں آپ کو ملیں کیونکہ جس طرح وہ بادشاہ جو حق کا انکار کر کے دوسروں کیلئے روک بنتا ہے ان کے گناہوں میں شریک قرار دیا جاتا ہے اس طرح وہ بادشاہ جو حق کو قبول کر کے دوسروں کیلئے حق کے قبول کرنے کا راستہ کھولتا ہے ان کے ثواب میں شریک کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا چند روزہ ہے اور نہ معلوم کہ کون کب تک زندہ رہے گا آخر ہر ایک کو مرنا اور اللہ تعالی کے حضور پیش ہوتا ہے۔ اس وقت سوائے صحیح عقائد اور صالح اعمال کے اور کچھ کام نہیں آئے گا۔ غریب بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے اور امیر بھی نہ بادشاہ اب تک اس دنیا سے کچھ لے گئے نہ غریب ساتھ جانے والا صرف ایمان ہے یا اعمال صالحہ ۔ پس اللہ تعالٰی کے مأمور پر