انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 581

انوار العلوم جلدے دل زارم به پهلویم مجوسید من آن خوش مرغ از مرغانِ قدیم تو جان ما منور کر دی از عشق دریغا گرد هم صد جاں دریں راہ چه بیت با بدادند این جوان را الا اے دشمن نادان و بے راہ ره مولی که گم کردند مردم الا اسے منکر از شان محمد ۔ ۵۸۱ دعوة الامير که بستیمش بدامان محمد که دارد جا به بستان محمد فدایت جانم اے جان محمد نباشد نیز شایان محمد که ناید کس بميدان محمد بترس از تیغ بران محمد بجو در آل و اعوان محمد هم از نور نمایان محمد کرامت گرچه بی نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان محمد اگر از محد اب آپ غور کریں کہ جس شخص نے بچپن سے لیکر وفات تک اپنی عمر کی ہر ساعت اور ہر لحہ کو اللہ تعالٰی کی یاد اور اس کے جلال کے اظہار اور اس کے کلام کی اشاعت اور رسول کریم کی محبت اور آپ کے دین کی اطاعت اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے استحکام میں خرچ کر دیا ہو اور اپنوں اور بیگانوں کو اللہ تعالی اور اس کے رسول کی عزت کی حفاظت کیلئے اپنا ن بنالیا ہو اور اپنا ہرذرہ اسلام کی خدمت میں لگا دیا ہو کیا ایسا شخص گمراہ اور ضال اور دجال ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اعمال مفسدانہ ہیں اگر اس قسم کا عشق کفر کی علامت ہے اگر ایسی محبت رسول گمراہی کا نشان ہے تو بخدا یہ گمراہی خدا مجھے ساری کرے نصیب یہ کفر مجھ کو بخش دے سارے جہان کا اللہ تعالی گواہ ہے اور اس کا کلام گواہ ہے اور اس کا رسول گواہ ہے اور عقل سلیم گواہ ہے کہ ایسا شخص ہرگز ہرگز گمراہ اور جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ تعالی اور اس کے رسول کا اس قدر عشق اور اس کی اس قدر اطاعت اور فرمانبرداری اور انکے احکام کی اشاعت کیلئے اس قدر کوشش کر کے اور ان کے لئے پہلوں اور پچھلوں سے زیادہ غیرت دکھا کر بھی کوئی شخص کذاب و دجال ہی بنتا ہے تو دنیا کے پردے پر کبھی کوئی شخص ہدایت کا مستحق نہیں ہوا اور نہ ہی بنتا کا نہ آئندہ ہو گا۔