انوارالعلوم (جلد 7) — Page 579
انوار العلوم جلدے ۵۷۹ دعوة الامير (A) اتفاقاً کسی دن رات کو بھی کام کرنا پڑتا تو یہ نہ سمجھتے تھے کہ اس نے اسلام کا کام کیا اور اپنے فرض کو انجام دیا ہے بلکہ اس قدر شکر و امتنان کا اظہار کرتے کہ گویا اس نے آپ کی کوئی ذاتی خدمت کی ہے اور آپ کو اپنا ممنون احسان بنا لیا ہے۔ باوجود ضعف اور بیماری کے اتنی ہے زیادہ کتب آپ نے تصنیف کیں اور سینکڑوں اشتہار اسلام کی اشاعت کیلئے لکھے اور سینکڑوں تقریریں کیں اور روزانہ لوگوں کو اسلام کی خوبیوں کے متعلق تعلیم دیتے رہے اور آپ کو اس میں اس قدر انہماک تھا کہ بعض دفعہ اطباء آپ کو آرام کیلئے کہتے تو آپ ان کو جواب دیتے کہ میرا آرام تو یہی ہے کہ دین اسلام کی اشاعت اور مخالفین اسلام کی سرکوبی کرتا رہوں حتیٰ کہ آپ اپنی وفات کے دن تک خدمت اسلام میں لگے رہے اور جس صبح آپ فوت ہوئے ہیں اس کی پہلی شام تک ایک کتاب کی تصنیف میں جو ہندوؤں کو دعوت اسلام دینے کی غرض سے تھی مشغول تھے ۔ اس سے اس سوز و گداز اور اس اخلاص و جوش کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپ کو اللہ تعالی کے جلال کے اظہار اور نبی کریم ا کی صداقت کے اثبات کے لئے تھا۔ میں لکھ چکا ہوں کہ صرف محبت کا دعویٰ محبت کا پتہ لگانے کیلئے حقیقی معیار نہیں ہے مگر وہ شخص جس نے اپنے ہر ایک عمل اور ہر ایک حرکت سے اپنے عشق و محبت کو ثابت کر دیا ہو اس کا دعوی اس کے دلی جذبات کے اظہار کا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے کیونکہ سچے عاشق کے دلی جذبات اس کی غیر معمولی خدمات سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں اور بوجہ اس کے راستباز ہونے کے دوسرے کے دل کو بھی متاثر کرتے رہتے ہیں۔ پس میں آپ کی دو فارسی نظمیں کہ ان میں سے ایک اللہ تعالی کے عشق میں ہے اور ایک رسول کریم اللہ کے عشق میں اس جگہ نقل کرتا ہوں: قربان تست جان من اے یار محسنم با من کدام فرق تو کردی که من کنم ہر آرزو که بود بخاطر معینم و از لطف کرده گذر خود بمسكنم خود ریختی متاع محبت بدامنم هر مطلب و مراد که می خواستم زغیب از جود داره همه آن مدعائے من بیچ آگهی نبود ز عشق و وفا مرا این خاک تیره را تو خود اکسیر کرده بود آن جمال تو که نمود است احسنم این صیقل دلم نه بزهد و تعبد است خود کرده مکلف و عنایات روشن صد منت تو هست بریں مشت خاک من جانم رہین لطف تمیم تو ہم تنم