انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 577

انوار العلوم جلدے ۵۷۷ دعوة الامير جائیداد کی آمدن کا حصہ لیتے اور نہ اس کا کوئی کام کرتے۔ لوگوں کو نماز روزے کی تلقین کرتے تبلیغ اسلام کرتے ، غریبوں مسکینوں کی بھی خبر رکھتے اور تو آپ کے پاس اس وقت کچھ تھا نہیں بھائی کے یہاں سے جو کھانا آتا اس کو غرباء میں بانٹ دیتے اور بعض دفعہ دو تین تولہ غذاء پر گزارہ کرتے اور بعض دفعہ یہ بھی باقی نہ رہتی اور فاقہ سے ہی رہ جاتے ۔ یہ نہیں تھا کہ آپ کی جائیداد معمولی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ گزارہ ہو رہا ہے اس وقت ایک سالم گاؤں آپ اور آپ کے بھائی کا مشترکہ تھا اور علاوہ ازیں جا گیر وغیرہ کی بھی آمدن تھی۔ اسی عرصے میں آپ نے اسلام کی نازک حالت دیکھ کر اللہ تعالی کے حضور میں دعا و اجتمال و عاجزی شروع کی اور اللہ تعالی کی طرف سے اشارہ پاکر براہین احمد یہ نامی کتاب لکھی جس کے متعلق اعلان کیا کہ اس میں تین سو دلائل صداقت اسلام کے دیئے جائیں گے یہ کتاب ہستی باری تعالی اور رسول کریم ال اور اسلام پر سے اعتراضات کے دفعیہ میں ایک کاری حربہ ثابت ہوئی اور گو نا مکمل رہی مگر اس شکل میں بھی دوست و دشمن سے خراج تحسین وصول کئے بغیر نہ رہی اور بڑے بڑے علماء نے اس کتاب کے متعلق رائے ظاہر کی کہ یہ کتاب تیرہ سو سال کے عرصے میں اپنی نظیر آپ ہی ہے ، اسلام کے بہترین ایام کے اکابر مصنفین کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تعریف اپنے مطلب کی آپ ہی تشریح کرتی ہے اس کے علاوہ جو بھی رسالہ یا اخبار نکلتا آپ اس میں اسلام کی عظمت اور اس کی حقیقت کو ظاہر کرتے اور دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے۔ حتی کہ سب اقوام آپ کی دشمن ہو گئیں مگر آپ نے ذرہ بھر نے ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ایک طرف تو مسیحی رسول کریم اللہ کو گالیاں دے رہے تھے اور دوسری طرف آریہ گندہ دہنی سے کام لے رہے تھے لیکن ہندوستان کے علماء ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے شائع کر رہے تھے ، اسلام پامال ہو رہا تھا مگر علماء کو رفع یدین اور ہاتھ سینے پر باندھیں یا ناف پر آمین بالجر کہیں یا آہستہ یا اسی قسم کے اور مسائل سے فرصت نہ تھی۔ اس وقت آپ ہی ایک شخص تھے جو اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر تھے اور مسلمانوں میں اعمال صالحہ کے رواج دینے کی طرف متوجہ تھے ۔ آپ اس بحث میں نہ پڑتے کہ حنفیوں کا استدلال درست ہے یا اہل حدیث کا بلکہ اس امر پر زور دیتے کہ جس امر کو بھی سچا سمجھو اس پر عمل کر کے دکھاؤ اور بے دینی اور اباحت کو چھوڑ کر اللہ تعالی کے احکام پر عمل شروع کر دو۔ پنڈت دیا نند بانی آریہ سماج سے آپ نے مقابلہ کیا، لیکھرام ، جیون راس، مرلی