انوارالعلوم (جلد 7) — Page 560
انوار العلوم جلدے ۵۶۰ دعوة الامير دسویں پیشگوئی قادیان کی ترقی کانشان اس وقت تک تو میں نے وہ نشان بیان کئے ہیں جو یا تو صرف انذار کا پہلو رکھتے تھے یا دونوں پہلوؤں پر مشتمل تھے اب میں تین ایسے نشان بیان کرتا ہوں جو خالص تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں یہ تین مثالیں جو میں بیان کروں گا یہ بھی ایسی ہی ہیں کہ بوجہ اپنی عمومیت کے دوست اور دشمن میں شائع ہیں اور ہر مذہب وملت کے لوگوں میں سے اس کے گواہ مل سکتے ہیں اور اس وقت سے کہ ان کا علم اللہ تعالی کی طرف سے دیا گیا حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب اور ڈائریوں میں شائع ہوتی چلی آئی ہیں۔ سب سے پہلے میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسے کہ بمبئی اور کلکتہ کے شہر ہیں۔ گویا نو دس لاکھ کی آبادی تک پہنچ جائے گا اور اس کی آبادی شمالا اور شرقاً پھیلتے ہو ۔ ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی ۳۰۔ جو قادیان سے نومیل کے فائم میل کے فاصلے پر بنے والے ایک دریا کا نام ہے ۔ یہ ہیں یا کا نام ہے۔ یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی ہے اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی سوائے چند ایک پختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچے تھے مکانوں کا کرایہ اتنا گر ا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرایہ پر مل جاتا تھا، مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپے کو قابل سکونت مکان بنانے کیلئے زمین مل جاتی تھی، بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا کیونکہ لوگ زمیندار طبقہ کے تھے اور خود دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے تعلیم کیلئے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا اور اسی کا مدرس کچھ الاؤنس لیکر ڈاک خانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا، ڈاک ہفتے میں دو دفعہ آتی تھی، تمام عمارتیں فصیل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی