انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 38

انوار العلوم - جلدے ۳۸ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء کے ہیں اس لئے جو یتیم رہ گیا وہ گویا خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ بے نگران ہو کے رہ گیا۔ پھر کیا خدا کے دوسرے بندے کا جو نگرانی کر سکتا ہے یہ فرض نہیں کہ خدا کے اس بندہ کی جو حفاظت کا محتاج ہے حفاظت کرے؟ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک آقا کے کئی نوکر ہوں اور ایک نوکر اونٹ چراتا ہو مگر وہ موجود نہ ہو تو کیا اس وقت دوسرے نوکر کا فرض نہیں ہے کہ آقا کے اونٹ کی حفاظت کرے ؟ اس کا فرض ہے کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ جس کے سپرد اونٹ تھا اس کے ذمہ اس کی حفاظت ہے بلکہ وہ اپنا یہ فرض سمجھے کہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اسی طرح بیتائی کی پرورش اور حفاظت ہر ایک مومن کا فرض ہے اور یہ بڑی نیکی ہے۔ اسی طرح بیوہ عورتوں کی اعانت بھی ضروری ہے۔ اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں۔ جو خداتعالی کے متعلق ہیں۔ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی نیکیاں نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور دین کے لئے چندہ دینا ایسی نیکیاں ہیں۔ جو خداتعالی کے متعلق ہیں بہت لوگ ان میں سستی کر جاتے ہیں۔ اس میں ناغہ قطعاً جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی انسان اس میں ایک بھی ناغہ کرتا ہے تو - نماز اسے توبہ کر کے پھرنے سرے سے مسلمان بنا پڑے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم گھر پر پڑھ لیتے ہیں مگر وہی نماز فائدہ دے سکتی ہے جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔ گھر پر نماز پڑھنے والے کو رسول کریم ﷺ نے منافق قرار دیا ہے ۔۔ میں افسوس سے کہتا ہوں کہ احمدیوں کے متعلق بھی بعض جگہ شکایت ہے کہ وہ با قاعدہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔ یہاں بھی دو تین شخص ایسے ہیں جو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے ان کے لئے بھی اور باہر کے لوگوں کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ سختی سے انتظام کیا جائے اور اگر وہ اپنی حرکت سے باز نہ آئیں تو ان کو اس کی سزادی جائے ۔ احمدیت سے الگ کرنا اور بات اور جماعت سے الگ کرنا اور بات ہے۔ احمدیت سے ہم کسی کو نہیں نکال سکتے کیونکہ احمدیت تو ایمانیات اور عقائد سے تعلق رکھتی ہے اور جب تک کوئی شخص ان عقائد کا اقرار کرتا ہے اسے کس طرح نکالا جا سکتا ہے؟ لیکن جماعت سے ہم الگ کر سکتے ہیں اور اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم اعلان کر دیں کہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ پس با جماعت نماز کی پابندی کرو اور اسے بہت ضروری سمجھو۔