انوارالعلوم (جلد 7) — Page 555
انوار العلوم جلدے ۵۵۵ دعوة الامير كم كرجب وعد الآخِرَةِ آئے گا تو ہم پھر تم کو اکٹھا کر کے لے آئیں گے اس بات کا اشارہ کیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم کو یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی۔ لیکن وَعْدُ الْآخِرَةِ کے وقت یعنی مسیح موعود کی بعثت ثانیہ کے وقت ہم تم کو پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے، چنانچہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے ۔ وعد الآخِرَةِ نُزُولُ عِيسَى مِنَ السَّمَاءِ ۳۔ اسی سورۃ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالٰی نے یہودیوں کے متعلق دو زمانوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے دوسرے زمانے کے متعلق فرماتا ہے۔ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ اولَ مَرَّةٍ وَلِيُنَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَثِيرًا ٣٠٢ - پس جب وَعْدُ الآخِرَةِ آگیا تاکہ تمہاری شکلوں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تھے اس دفعہ بھی مسجد میں داخل ہوں اور جس چیز پر قبضہ پائیں اسے ہلاک کر دیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وَعْدُ الْآخِرَةِ سے مراد وہ زمانہ ہے جو مسیح کے بعد یہود پر آئے گا۔ کیونکہ اس وَعْدُ الآخِرَةِ کے بعد بجائے جمع کئے جانے کے یہود پر اگندہ کر دیئے گئے تھے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ دوسری جگہ وَعْدُ الآخِرَةِ سے مسیح کے نزول ثانی کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور جِئْنَا بِكُمْ لفيفا سے مراد یہود کا وہ اجتماع ہے جو اس وقت فلسطین میں کیا جا رہا ہے کہ وہ ساری دنیا سے اکٹھا کر کے وہاں لا کر بسائے جا رہے ہیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کے العام كَفَفْتُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے مراد اس مخالفت کا دور ہوتا ہے جو ا اقوام عالم بنی اسرائیل (یہود) سے رکھتی تھیں اور ان کو کوئی قوم گھر بنانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ ایک علامت اس جنگ کیلئے یہ مقرر کی گئی تھی کہ یہ جنگ بہر حال سولہ سال کے اندر ہو گی چنانچہ ایسا ہی ہوا - ۱۹۰۵ء میں اس کے متعلق الہام ہوئے اور ۱۹۱۴ء میں یعنی نو سال کے بعد یہ - ! جنگ شروع ہو گئی ۔ ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ تمام بیڑے اس وقت تیار رکھے جائیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران میں برسر پیکار قوموں کے علاوہ دوسری حکومتوں کو بھی اپنے بیڑے ہر وقت تیار رکھنے پڑتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کا بیڑہ ان کے سمندر میں کوئی نامناسب بات کر بیٹھے اور ان کو جنگ میں خواہ مخواہ مبتلاء ہونا پڑے اور اس غرض سے بھی تا اپنے حقوق کی حفاظت کریں ۔ ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ جہاز پانی میں ادھر سے ادھر چکر لگائیں گے تا