انوارالعلوم (جلد 7) — Page 553
انوار العلوم جلدے ۵۵۳ دعوة الامير تو کچھ حد ہی نہیں رہی۔ جس ملک کی فوج آگے بڑھی اس نے دوسرے ملک کے کھیت اور شہر اُجاڑ دیئے اور سبزے کا نام و نشان باقی نہ چھوڑا اور چونکہ ہزاروں میل پر توپ خانے کا پھیلاؤ تھا۔ اس سے بھی اس قدر نقصان ہوا جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ جانوروں کے ہوش و حواس اُڑ جائیں گے سو ایسا ہی ہوا جن علاقوں میں جنگ ہو رہی تھی وہاں کے جانور حواس باختہ ہو کر نیست و نابود ہو گئے ۔ ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ زمین اُلٹ پلٹ ہو جائے گی، چنانچہ فرانس، سرویا اور روس کے علاقوں میں گولہ باری کی کثرت سے بعض جگہ اس قدر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے کہ نیچے سے پانی نکل آیا ۔ اور اسی طرح خندقوں کی جنگ کے طریق پر زور دینے کی وجہ سے ملک کا ہر حصہ گھر گیا اور ایسا ہوا کہ ان علاقوں کو دیکھ کر یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ علاقہ کبھی آباد تھا بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بھٹوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے یا پہاڑ کی غاریں ہیں۔ ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ ندیوں کے پانی خون سے سرخ ہو جائیں گے اور خون کی ندیاں چلیں گی سو بلا مبالغہ اسی طرح ہوا ، بعض دفعہ اس قدر خونریزی ہوتی تھی کہ ندیوں کا پانی فی الواقع میلوں میل تک سرخ ہو جاتا تھا اور ہر سرحد پر اس قدر جنگ ہوئی کہ کہہ سکتے ہیں کہ خون کی نالیاں بہہ پڑیں۔ رمیں ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ مسافروں پر وہ ساعت سخت ہوگی اور بعض ان میں سے راستہ بھوٹے پھریں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، خشکی پر فوجوں کے پھیل جانے سے اور سمند رہا آبدوز جہازوں کے حملوں سے مسافروں کو جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اور جس وقت جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت ہزاروں لاکھوں آدمی دشمنوں کے ممالک میں گھر گئے اور بعض ہزاروں میل کا چکر لگا کر گھروں کو پہنچے اور جنگ کے درمیان بھی بہت دفعہ فوجی سپاہیوں کو بعض ناکوں کے دشمن کے قبضے میں چلے جانے کی وجہ سے سینکڑوں میل کا سفر کر کے جانا پڑتا تھا انگریز سپاہی بوجہ فرانس میں مسافر ہونے کے راستہ بھول جاتے تھے ، چنانچہ اس قسم کے حوادث کی کثرت کی وجہ سے آخر فرانسیسی زبان میں ان کی رجمنٹوں وغیرہ کے نام تختیوں پر لکھ کر ان کے گلوں میں لٹکائے گئے تاکہ جہاں جائیں وہ تختیاں دکھا کر منزل مقصود پر پہنچ سکیں ۔ ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ یورپ جو کچھ عمارات تیار کر رہا ہے وہ مٹادی جائیں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس جنگ نے علاوہ ظاہری عمارتوں کے گرانے کے یورو چین تمدن کی بنیادوں اور