انوارالعلوم (جلد 7) — Page 33
انوار العلوم - جلدے ۳۳ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء اٹھالی۔ تلوار کھینچ کر اس نے آپ کو جگایا اور کہنے لگا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم نے لیٹے لیٹے فرمایا مجھے اللہ بچا سکتا ہے۔ اس آواز کا اثر اس پر بجلی کی طرح ہوا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ آپ نے اس کا امتحان لینے کے لئے کہ میرے الفاظ کا اس پر بھی کچھ اثر ہوا ہے یا نہیں۔ تلوار اٹھائی اور پوچھا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہہ دیا آپ ہی بچائیں تو بچا سکتے ہیں ۔ گویا اس نے سبق سن کر بھی کچھ نہ سیکھا۔ آپ نے اسے کہا یہ نہ کہو۔ خدا ہی تم کو بھی بچا سکتا ہے اور چھوڑ دیا ہے ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میرے حساب کی پڑتال ہونے والی ہے اور کچھ ایسی فرو گذاشتیں ہو گئیں ہیں کہ ان کی وجہ سے مجھے بہت سا روپیہ بھرنا پڑے گا حالانکہ واجب الاداء نہیں ہے آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بچائے۔ میں نے اس کے لئے دعا کی اور مجھے معلوم ہوا کہ دعا قبول ہو گئی ہے۔ اور میں نے اس کو لکھ دیا کہ مایوس نہ ہو خدا تعالی تمہیں بچالے گا۔ پھر جب تحقیقات مکمل ہو چکیں اور اس کے ذمہ روپیہ نکالا گیا تو اعلیٰ افسر نے بلا کا غذات کے دیکھنے کے لکھ دیا کہ اس تحقیقات کو داخل دفتر کر دو۔ پس مایوس کبھی نہ ہونا چاہیے خواہ کیسی مشکلات میں گھر جاؤ ۔ ذاتی گناہ بندوں اور خدا سے بھی تعلق رکھتے ہیں یاد رکھا جائے کہ ذاتی گناہ جو میں ہیں نے بتائے ہیں وہ نمبر ۱۲ اور نمبر ۳ کے بھی گناہ ہوتے ہیں یعنی وہ دوسروں سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے متعلق بھی گناہ ہوتے ہیں۔ مثلاً جو شخص کوئی ذاتی گناہ کرتا ہے وہ ایک رنگ میں دوسروں کے متعلق بھی گناہ کرتا ہے اور خدا تعالی کا بھی۔ جیسے متعدی امراض ہوتی ہیں اگر ایک کو طاعون ہو تو گو اس کی ذات کو یہ مرض ہوتا ہے مگر اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی طاعون ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص میں عیب ہو تو اس کے عیب کا اثر ہم پر ہمارے بچوں اور بیویوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پس ذاتی گناہ کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسروں کو کیا؟ میں اپنی ذات کے متعلق یہ گناہ کرتا ہوں۔ دوسروں کو بھی کچھ ہے کیونکہ اس کے ذاتی گناہ کا اثر دو سروں پر بھی پڑتا ہے۔ اکتساب عمل خیر وقت تک جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ کیا ہے وہ مختلف قسم کے گناہوں ۔ سے اس بچنے کے متعلق ہے اور یہ روحانیت کے لئے ضروری ہے۔ ہے۔ اب دوسری بات بیان کرتا ہوں جو روحانیت پر اثر ڈالنے والی ہے اور وہ اکتساب عمل خیر ہے۔