انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 475

انوار العلوم جلدے ۴۷۵ دعوة الامير دیتے وہ ہماری طرح کے انسان ہیں جو کچھ قرآن کریم میں آگیا وہ حجت ہے باقی سب باطل ہے ۔ سے وہ ہماری طرح کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگوں نے جو کچھ کہہ دیا کہہ دیا ان کے خیال کے خلاف اور کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہمارا فرض ہے کہ اندھا دھند ان کی تقلید کریں۔ یہ تو اصولی باتیں ہیں۔ اب رہیں جزئیات ان میں اور بھی اندھیر ہے۔ بعض لوگ غیر زبانوں کا پڑھنا بھی کفر قرار دیتے ہیں۔ بعض لوگ علوم جدیدہ کا سیکھنا ایمان کے منافی خیال کرتے ہیں ان کے مقابلے میں ایک حصہ مسلمانوں کا سود جس کی نسبت اللہ تعالٰی فرماتا ہے فَاذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ ۲۱۲ کو جائز قرار دیتا ہے ۔ نماز روزہ زکوة ورثہ ہر ایک امر کے متعلق اس قدر اختلاف ہے کہ حقیقت بالکل پوشیدہ ہو گئی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی بات کو اصل اسلام قرار دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کرنے والے کے ساتھ جھگڑا کیا جاتا ہے۔ مسلمان کہلانے والوں نے اپنے بھائیوں کی انگلیاں اس لئے تو ڑ دی ہیں کہ وہ تشہد کی انگلی کیوں کھڑی کرتے ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے مونہوں میں نجاستیں ڈالی ہیں کہ اس منہ سے آمین بالجہر کیوں نکلی تھی غرض عملی حصہ بھی اسی تغیر و تبدل اور اسی فساد کا شکار ہو رہا ہے جیسا کہ اعتقادی حصہ تھا۔ حضرت اقدس نے اس حصہ کی بھی اصلاح کی اور ایک طرف تو اباحت کے طریق کو باطل ثابت کیا اور بتایا کہ شفاعت ان لوگوں کیلئے ہے جو گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر پھر بعض وجوہ سے ان میں گر جاتے ہیں اور بعض کو تاہیاں ان کی باقی رہ جاتی ہیں نہ ان کیلئے جو شفاعت کی خاطر گناہ کرتے ہیں۔ شفاعت گناہ کے مٹانے کیلئے تھی نہ کہ گناہ کی اشاعت کے لئے۔ اسی طرح یہ بتایا کہ گو شریعت اصل مقصود نہیں مگر عبودیت اصل مقصود ہے پس جس کام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جس وقت تک دیا ہے اسے بجا لانا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا قرب کوئی محدود شئے نہیں کہ کہا جائے کہ اب قرب حاصل ہو گیا ہے اب عبادت کی ضرورت نہیں۔ رسول کریم ال جیسا انسان جب وفات تک اِيَّاكَ نَعْبُدُ ۲۳۔ اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۲۱۴ کہتا رہا اور آپ کو رَبِّ زِدْنِی عِلْماً ۲۱۵۔ کہنے کا حکم ملا تو اور کون شخص ہے جو کہے کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا ہوں ، اب مجھے عبادت کی ضرورت نہیں۔ در حقیقت اس قسم کے خیال کے لوگ اللہ تعالیٰ کو ایک دریا کے کنارے کی طرح محدود شتے قرار دیتے اور اپنی بے دینی کو دین کے پردہ کے نیچے چھپاتے ہیں۔