انوارالعلوم (جلد 7) — Page 471
انوارالعلوم جلد ہے ۴۷۱ دعوة الامير روایات کے بالکل بر خلاف ہے اور جس قدر اس قسم کی باتیں آپ کی نسبت یا دوسرے انبیاء کی نسبت مشہور ہیں وہ یا تو منافقوں کے جھوٹے اتہامات کی بقیہ یاد گاریں ہیں یا کلام الہی کے غلط اور خلاف مراد معنی کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ او آپ نے نہایت وضاحت سے قرآن کریم سے بدلائل قاطعه ثابت کر دیا که در حقیقت اس قسم کے خیالات اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہ خیالات مسلمانوں میں مسیحیوں سے آئے تھے کیونکہ مسیحیوں نے حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کیلئے یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ سب نبیوں کی عیب شماری کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ چونکہ گناہوں سے پاک صرف حضرت مسیح ہیں اس لئے ضرور وہ انسانیت سے بالا طاقتیں رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی سب نبیوں کے عیب تو گنائے جاتے ہیں اور رسول کریم ال تک اتہامات لگائے جاتے ہیں مگر حضرت مسیح کو بالکل بے گناہ قرار دیا جاتا اور آپ ہی کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ کو بھی بالکل پاک قرار دیا جاتا ہے ۔ کیا یہ اس امر کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ جھوٹے افسانے اور قابل نفرت قصے مسلمانوں میں مسیحیوں سے ہی آئے ہیں جن کے بداثر کو یا تو بوجہ ایک جگہ رہنے کے مسلمانوں نے قبول کر لیا یا بعض شریر الطبع لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر کے اس قسم کی مزیات اور باطل باتیں مسلمانوں میں پھیلانی شروع کردیں جنہیں ابتداء تو ہمارے مورخوں اور محمد ثوں نے اپنی مشہور دیانت داری سے کام لے کر صحیح روایات کے ساتھ جمع کر دیا تھا تا کہ مخالف اور موافق سب روایات لوگوں تک پہنچ جائیں مگر بعد کو آنے والے ناخلف لوگوں نے جو نور نبوت سے خالی ہو چکے تھے ان شیطانی وساوس کو تو قبول کر لیا جو قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف تھے اور ان صحیح روایتوں کو نظر انداز کر دیا جو انبیاء کی عصمت اور ان کی پاکیزگی پر دلالت کرتی تھیں اور ان وساوس کیلئے بمنزلہ تیز تلوار کے تھیں جس کی ضرب کو وہ قطعا برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ مگر الْحَمْدُ لِلهِ کہ حضرت اقدس نے اس گندگی کو ظاہر کر دیا اور انبیاء کے صحیح مرتبہ کو پھر قائم کر دیا اور ان کی عزتوں کی حفاظت کی خصوصاً رسول کریم ﷺ کی شان اور آپ کی پاکیزگی کو تو نہ صرف الفاظ میں بیان کیا بلکہ ایسے زبردست دلائل سے ثابت کیا کہ دشمن کامنہ بھی بند ہو گیا بقول حضرت اقدس ہر رسولی آفتاب صدق بود ہر رسولی بود مهر انورے