انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 463

انوار العلوم جلدے ۴۶۳ دعوة الامير بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ اس کے ربط اور اس کی ترتیب کے بھی منکر ہو گئے ہیں گویا ان کے نزدیک جس طرح کوئی شخص بے ہوشی میں ادھر ادھر کی باتیں کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم میں بلا کسی ترتیب کے مختلف واقعات کو بیان کر دیا گیا ہے ۔ کوئی خاص ترتیب اور مضمون مد نظر نہیں ۔ بعض نے ، بلکہ اس وقت کے کل مسلمانوں نے کلام الہی کے متعلق ایک اور ظلم کیا ہے کہ کہہ دیا ہے کہ پہلے اللہ کا کلام دنیا پر نازل ہوتا تھا لیکن اب نہیں ہو تا گویا اب اللہ تعالٰی کی ایک صفت معطل ہو گئی ہے وہ دیکھتا ہے سنتا ہے لیکن بولتا نہیں ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ۔ غرض ہر شخص سے جس قدر ہو سکا اس نے کلام پاک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی خوبصورتی کو لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہا ہے اور ان سب کو ششوں کا نام خدمت قرآن رکھا ہے حالانکہ ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دنیا قرآن کریم سے متنفر ہو گئی ہے اور اس کا اثر دلوں سے اٹھ گیا ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اے بادشاہ! ان تمام عیوب کو آکر دور کیا اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا آخری ہدایت نامہ ہے وہ شیخ سے محفوظ ہے اس کے اندر جو کچھ موجود ہے مسلمانوں کیلئے قابل عمل ہے اور اس کا کوئی حصہ نہیں جو دوسرے حصے کے مخالف ہو اور قابل نسخ سمجھا جائے جو اس میں اختلاف دیکھتا ہے وہ خود جاہل اور اپنی کم علمی کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتا ہے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اسی طرح ہے جس طرح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے اندر کوئی تبدیلی کی ہی نہیں جاسکتی نہ اس کے بعض مضامین کو بدل کر اور نہ اس کے اندر کوئی نئی عبارت بڑھا کر اور نہ اس کا کوئی حصہ کم کر کے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ ہے اور اس نے اس کی حفاظت کے ایسے سامان کر دیئے ہیں کچھ روحانی اور کچھ جسمانی کہ انسانی دست برد اس پر اثر کر ہی نہیں سکتی۔ پس اس میں کوئی نسخ ماننا بھی غلط ہے اور اس میں کوئی تغیر تسلیم کرنا بھی خواہ وہ کیسا ہی ادنی ہے اتمام ہے وہ محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا۔ یہ کہنا کہ اس کا کوئی حصہ دنیا سے اٹھایا گیا ہے اللہ تعالٰی پر الزام لگانا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کامل کتاب جو اس نے دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجی تھی وہ ایک دن بھی اس کام کو نہ کر سکی