انوارالعلوم (جلد 7) — Page 461
انوارالعلوم جلدے ۴۶۱ دعوة الامير دخل دیا ہے اور ایسے حصے اس میں ملا دیتے ہیں جو شیطان کی طرف سے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھے اور عام قاعدے کے بیان کرنے پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ سورۃ نجم پڑھ رہے تھے جب ان آیات پر پہنچے کہ ۲۰۱ أَفَرَءَ يْتُمُ اللتَ وَالْعُزَّى وَمِنُوةَ الثَّالِثَةَ الأخرى -٢٠١ - تو آپ کی زبان پر شیطان نے نعوذ بِاللهِ مِنْ ذلِک یہ کلمات جاری کر دیے تِلْكَ الْفَرَائِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتَرْتَجِي ۲۰۲، یعنی یہ بت جو بمنزلہ خوبصورت لمبی گردنوں والی حسین عورتوں کے ہیں ان سے شفاعت کی امید کی جاتی ہے ۔ جب یہ الفاظ آپ کی زبان سے کفار نے سنے تو انہوں نے بھی سجدہ کر دیا ۔ بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ یہ الفاظ شیطان نے آپ کی زبان پر جاری کر دیئے تھے تو آر تھے تو آپ کو بہت افسوس ہوا (نعو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ) بعض لوگوں نے اس کہانی کو اگر حد سے زیادہ خلاف واقع اور ناقابل برداشت سمجھا ہے تو یہ کہہ دیا کہ رسول کریم اس کی زبان پر شیطان نے یہ فقرات جاری نہیں کئے تھے بلکہ آپ کی سی آواز بنا کر اس طرح یہ کلمات کہہ دیتے تھے کہ یہی سمجھ میں آتا تھا کہ گویا آپ نے یہ کلمات پڑھے ہیں۔ اس بات کو صحیح سمجھنے سے قرآن کریم کے متعلق جو بے اعتباری پیدا ہوتی ہے اس کو یوں دور کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے بتا دیا ہے کہ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ ايَتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۲۰۳ ۔ یعنی پھر اللہ تعالی شیطان کی ملاوٹ کو تو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیتوں کو قائم کر دیتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے مگر اس جواب سے کسی کو تسلی کب ہو سکتی ہے کیونکہ اگر شیطان بھی نَعُوذُ بِاللهِ کلام الہی میں دست اندازی کر سکتا ہے تو پھر اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ آیت بھی شیطانی نہیں ہے اور شیطان نے اپنی ملاوٹ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطمئن کرنے کے لئے یہ نہیں کہہ دیا ہے کہ شیطان کی طرف سے جو کلام ہو وہ مٹا دیا جاتا ہے تا کہ جو نہ مٹا دیا جائے اس کو اللہ کا کلام سمجھ لیا جائے ۔ بعض لوگوں نے قرآن کریم کو ایسا بے وقعت کر دیا ہے کہ اس کے صریح اور صاف احکام کو ضعیف بلکہ موضوع احادیث کے تابع کر دیا ہے اور اتباع سنت کے نام سے اللہ ذوالجلال کے کلام کو بعض خود غرض اور اخلاق ذمیمہ رکھنے والے انسانوں کے خیالات کے تابع کر دیا ہے ۔ قرآن کریم خواه چلا چلا کر کسی کو رد کرے لیکن اگر ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی اس کا ذکر و