انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 456

انوار العلوم جلد کے ۴۵۶ دعوة الامير صفات مخصوصہ میں سے ہے اسے مسیح علیہ السلام کسی طرح کر سکتے تھے ۔ احيي الموت اللہ کے الفاظ قرآن سے دھوکا کھاتے ہیں، ہیں ، لیکن جب رسول کریم ال کی نسبت یہ الفاظ ا استعمال اے ہوتے ہیں کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُو اللَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْتِبُكُمْ مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کر لیا کرو جب ان میں سے کوئی تم کو بلائے تاکہ تم کو زندہ کرے تو اس وقت اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ زندگی سے مراد روحانی زندگی ہے۔ جب احیاء کے معنے روحانی زندگی دینے کے بھی ہوتے ہیں اور جب کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کر سکتا اور جب کہ اس دنیا میں مُردے زندہ کر کے اللہ بھی نہیں بھیجتا تو پھر کیوں احیاء کے وہ معنی نہیں لیتے جو کلام الہی کے مطابق ہوں اور : اور جن سے شرک نہ پیدا ہوتا ہو۔ ۱۹۳ ہیں۔ اسی طرح یہ موحد کہلانے والے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کیا کرتے تھے حالانکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی شخص کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ١٩٣ - جن آدمیوں کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ وہ خود پیدا کئے گئے ہے پھر فرماتا ہے اَمْ جَعَلُو اللَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْفِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْنُ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۱۹۴ کیا وہ اللہ کے سوا شریک مقرر کرتے ہیں جن کی صفت یہ ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے اور اب ان لوگوں کی نظروں میں اللہ تعالیٰ کی اور ان کی مخلوق مشتبہ ہو گئی ہے کہہ دے کہ اللہ ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور وہ ایک ہے ہر چیز اس کے تصرف میں ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے ۔ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ١٩٥ وہ لوگ کہ تم ان کو اللہ کے سوا پکارتے ہو ہر گز پیدا نہیں کر سکتے ایک مکھی بھی گو سب کے سب جمع ہو جائیں اور مسیح علیہ السلام بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ ۱۹۵ غرض باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ بات صریح طور پر موجود ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی کچھ نہیں پیدا کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو وہ سچا معبود ہے ۔ اخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الدِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ (۹۲) کے وہ معنے کرتے ہیں جو قرآن کریم کی محکم تعلیم کے خلاف ہیں اور نہیں سوچتے کہ ایک لفظ کئی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پس وہ معنے کریں جو قرآن کریم کی