انوارالعلوم (جلد 7) — Page 26
انوار العلوم - جلدے ۲۶ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء یہ ہے کہ خود کشی خدا تعالی سے مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ انسان جب یہ خیال کر لیتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور میں مشکلات سے مخلصی نہیں پاسکتا تو وہ خود کشی کر لیتا ہے ۔ ایسا انسان خدا کا خانہ خالی سمجھ لیتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ اب خدا کچھ نہیں کر سکتا اسی لئے یہ ایسا گناہ ہے تو کبھی معاف نہیں ہو سکتا کیونکہ جب انسان نے اپنے آپ کو مار ڈالا تو تو بہ پ کو مار ڈالا تو تو یہ کب کر سکتا ہے اور کب یہ گناہ معاف ہو گا؟ شرک جیسا گناہ بھی تو بہ کرنے سے معاف ہو سکتا ہے مگر خود کشی کا گناہ معاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے کرنے کے بعد توبہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ایک دفعہ میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کون سا گناہ ہے جو معاف نہیں ہو سکتا تو مجھے یہی گناہ ایسا نظر آیا۔ جو اپنی ذات کے علاوہ دوسروں پر بھی اثر ڈالنے والے معاصی یہ موٹے موٹے ذاتی گناہ میں نے بیان کر دیتے ہیں۔ اب دوسرے گناہ جو دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے بچنا ضروری ہے ان میں سے موٹے موٹے گناتا ہوں۔ ایسے گناہ جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے ان میں سے ایک خیانت ہے۔ جب (۱) خیانت کوئی دوسرے پر اعتماد کر کے اپنا مال اس کے پاس رکھتا ہے ! ہے اور وہ اس میں خیانت کرتا ہے تو یہ حد درجہ کی بے شرمی ہے۔ میں نے ایسا خائن کوئی احمدیوں میں نہیں دیکھا کہ جس نے کسی کا روپیہ لے کر دینے سے کلی طور پر انکار کر دیا ہو اور یہ خدا کا فضل ہی ہے مگر اور قسم کی خیانتیں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً ایک شخص دوسرے کا روپیہ خرچ کر لیتا ہے اور جب وہ مانگتا ہے تو کہتا ہے کہ جب میرے پاس ہو گا تو دے دوں گا مگر سوال یہ ہے کہ دوسرے کے پاس روپیہ کوئی رکھتا تو اس لئے ہے کہ جب ضرورت ہو گی لے لونگا پھر کیوں اسے ضرورت کے وقت نہ دیا جائے؟ اس قسم کی خیانت دیکھی جاتی ہے اور یہ بھی خطرناک گناہ ہے کسی کے یہ کہہ دینے سے کہ جب روپیہ ہو گا دے دونگا خیانت کا جرم کم نہیں ہو جاتا ۔ جس کا روپیہ تم نے خرچ کر لیا اس کو تو ضرورت کے وقت نہ ملنے کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے اگر اسے یہ کہہ دیا جاتا کہ روپیہ نہیں دیتا تو بھی اس کا نقصان ہوتا۔ پس اس کا تو دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے اس لئے یہ کہہ دینا کہ جب ہو گا دے دیا جائے گا جرم کو کم نہیں کرتا۔ نفس کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ اگر کوئی آپ کے پاس روپیہ رکھتا ہے تو جب مانگے اسے دے دو۔ میرے نزدیک تو خیانت کا یہ مفہوم ہے کہ آپ کا ایک نہایت عزیز بیمار پڑا ہے اور خطرہ ہے کہ اگر اس کا علاج نہ کیا تو مر جائے گا اس