انوارالعلوم (جلد 7) — Page 438
انوار العلوم جلدے ۴۳۸ دعوة الامير شخص تھے اور غرض مختلف ناموں کے ذریعے سے پیشگوئی کرنے کی یہ تھی کہ اپنے نبیوں سے اس کی خبر سن کر اور اپنی زبان میں اس کا نام دیکھ کر وہ اسے اپنا سمجھیں غیر خیال نہ کریں حتی کہ وہ زمانہ آجائے کہ جب وہ موعود ظاہر ہو اور اس کے وقت میں سب پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر ان کی صداقت کا اقرار کرنا پڑے اور اس کی شہادت پر وہ اسلام کو قبول کریں۔ اس پر حکمت عمل کی مثال بالکل یہ ہے کہ کوئی شخص بہت سی اقوام کو لڑتا دیکھ کر ان سے خواہش کرے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے سے فیصلہ کر لیں اور جب وہ اپنے اپنے ثالث مقرر کر چکیں تو معلوم ہو کہ وہ ایک ہی شخص کے مختلف نام ہیں اور اس کے فیصلے پر سب کی صلح ہو جائے۔ غرض یہ ثابت کر کے کہ مختلف مذاہب میں جو آخری زمانے کے موعود کے متعلق پیشگوئیاں ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں اور پھر یہ ثابت کر کے کہ ایک ہی وقت میں کئی موعود جن کی غرض یہ ہو کہ سب دنیا میں صداقت کو پھیلائیں اور اپنی قوم کو غالب کریں نا ممکن ہے آپ نے ثابت کر دیا که در حقیقت سب مذاهب مختلف ناموں کے ساتھ ایک ہی موعود کو یاد کر رہے تھے وہ موعود آپ ہیں اور چونکہ نبی کسی قوم کا نہیں ہوتا جو خدا کیلئے اس کے ساتھ ہو وہ اس کا ہوتا ہے اس لئے وہ گویا ہر مذہب کے پیروؤں کے اپنے ہی آدمی ہیں اور آپ کے ماننے سے ان کی تمام ترقیات وابستہ ہیں اور آپ کو ماننے کے یہ معنے ہیں کہ اسلام میں داخل ہوں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ پیشگوئی پوری ہو جائے کہ مسیح موعود اس لئے نازل ہوگا تا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی دین اسلام کو سب دیوں پر غالب کرے۔ یہ حربہ ایسا کاری ہے کہ کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہر مذہب میں آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے اور جو علامات بتائی گئی ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں لیکن مدعی سوا مجبور ہو کر تسلیم آپ کے اور کوئی کھڑا نہیں ہوا پس یا تو اپنے مذاہب کو لوگ جھوٹا سمجھیں یا مجبور ہو کریں کہ یہ اسلام کا موعود ہی ان کتابوں کا موعود تھا اور اس پر ایمان لائیں۔ ان دو صورتوں کے سوا اور کوئی تیسری صورت مذاہب عالم کے پیروؤں کیلئے کھلی نہیں اور ان دونوں صورتوں میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ اگر دیگر ادیان کے پیرو اپنے مذاہب کو جھوٹا سمجھ کر چھوڑ بیٹھیں تب بھی اسلام غالب رہا اور اگر وہ ان مذاہب کو سچا کرنے کیلئے ان کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے کے مصلح کو قبول کر لیں تب بھی اسلام غالب رہا۔