انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 435

انوار العلوم جلدے ۴۳۵ دعوة الامير خدا تعالٰی کے داہنے ہاتھ پر جا بیٹھنا ان کی عظمت اور خدائی کا اقرار کروا لیتا تھا۔ آپ نے ان دونوں باتوں کو انجیل ہی سے غلط ثابت کر کے دکھایا اور تاریخ سے ثابت کر دیا کہ مسیح کا صلیب پر مرنا نا ممکن تھا کیونکہ صلیب پر لوگ تین تین دن تک زندہ رہتے تھے اور مسیح کو صرف بقول اناجیل تین چار گھنٹے صلیب پر رکھا گیا بلکہ انجیل میں ہے کہ جب ان کو صلیب سے اتارا گیا تو ان کے جسم میں میں نیزہ چھونے سے جسم سے زندہ خون نکلا ۱۷۳۔ اور مردے کے جسم سے سے زندہ خون نہیں نکلا کرتا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح نے پیشگوئی کی تھی جو اب تک اناجیل میں موجود ہے کہ آپ زندہ صلیب سے اتر آئیں گے ۔ آپ نے فرمایا تھا اس زمانے کے لوگوں کو یونس نبی کا سا معجزہ دکھایا جائے گا جس طرح وہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اسی طرح ابن آدم تین دن رات قبر میں رہے گا۔ ۱۷۴۔ اور یہ بات متفقہ طور تسلیم کی جاتی ہے کہ یونس نبی زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی اس سے باہر آیا ۔ پس اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی زندہ ہی قبر میں اتارے گئے اور زندہ ہی اس میں سے نکالے گئے۔ چونکہ تمام دلائل کی بنیاد انا جیل پر ہی تھی اس حربہ کا جواب مسیحی کچھ نہ دے سکتے تھے اور نہ اب دے سکتے ہیں۔ پس کفارہ اور مسیح کے دوسروں کی خاطر صلیب پر مارے جانے کا عقیدہ جو مسیحیت کی طرف لوگوں کو کھینچ کر لا رہا تھا بالکل باطل ہو گیا اور اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ دوسری ٹانگ مسیحیت کے بت کی حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھ جانے کی تھی۔ یہ ٹانگ بھی آپ نے انجیلی دلائل سے ہی توڑ دی سے ہی توڑ دی کیونکہ آپ نے انجیل سے ہی ثابت کر دکھایا کہ مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ کے بعد آسمان پر نہیں گئے بلکہ ایران، افغانستان اور ہندوستان کی طرف چلے گئے جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے آیا ہوں میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانے کی نہیں مجھے ان کا بھی لانا ضرور ہے ۱۷۵ اور تواریخ سے ثابت ہے ہے کہ کہ بابل کے بادشہ بادشاه بخت نصر نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے دس کو قید کر کے افغانستان کی طرف جلا وطن کر دیا تھا ۔ ۱۷۲، پس حضرت مسیح کے اس قول کے مطابق ان کا افغانستان اور کشمیر کی طرف آنا ضروری تھا، تا کہ وہ ان گمشدہ بھیڑوں کو خدا کا کلام پہنچا دیں اگر وہ ادھر نہ آتے تو اپنے اقرار کے مطابق ان کی بعثت لغو اور عبث ہو جاتی ۔ آپ نے انجیلی شہادت کے علاوہ تاریخی اور جغرافیائی شہادت سے بھی اس دعوی کو پایہ