انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 431

انوار العلوم جلدے ۴۳۱ دعوة الامير بات پیش کریں یا ثابت کریں کہ وہ آپ کے چال چلن کو بچپن سے بڑھاپے تک ایک اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ اور بے عیب نہیں سمجھتے تھے مگر باوجو د بار بار مخالفوں کے اکسانے کے کوئی شخص آپ کے خلاف نہیں بول سکا اور اب تک بھی وہ لوگ زندہ ہیں جو آپ کی جوانی کے حالات کے شاہد ہیں مگر با وجود سخت مخالفت کے وہ اس امر کی گواہی کو نہ چھپا سکتے تھے اور نہ چھپا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چال چلن حیرت انگیز طور پر اعلیٰ تھا اور بقول بہت سے ہندوؤں اور سکھوں اور مسلمانوں کے آپ کے بچپن اور جوانی کی زندگی اللہ والوں کی زندگی تھی۔ پس جس طرح رسول کریم اس کا نفس ناطقہ آپ کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مخالفوں کے سامنے بطور حجت کے پیش کیا ہے اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی زندگی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ آپ کا اپنا نفس ہی آپ کی سچائی کا شاہد ہے۔ چوتھی دلیل غلبه اسلام بر ادیان باطله چوتھی دلیل یا یوں کہنا چاہئے کہ چوتھی قسم کے دلائل آپ کی صداقت کے ثبوت میں یہ ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کیا ہے جسے قرآن کریم میں مسیح موعود کا خاص کام قرار دیا گیا ہے یعنی آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر کے دکھایا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ ۔ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اللہ تعالی اس دین کو باقی تمام ادیان پر غالب کر کے دکھائے اور رسول کریم اللہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات زمانہ مسیح موعود میں ہو گی کیونکہ فتنہ دجال کے توڑنے اور یا جوج ماجوج کی ہلاکت اور مسیحیت کے مٹانے کا کام آپ نے مسیح کے ہی