انوارالعلوم (جلد 7) — Page 429
انوار العلوم جلدے ۴۲۹ دعوة الامير دلچسپی کی وجہ سے مخالفت تھی ہر شخص خواہ ہندو ہو، خواہ سکھ ، خواہ مسیحی، خواہ مسلمان اس بات کا مُقتر ہے کہ آپ کی زندگی دع پ کی سے۔ زندگی دعوے سے پہلے نہایت بے عیب اور پاک تھی اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق فاضلہ آپ کو حاصل تھے سچائی کو آپ کبھی نہ چھوڑتے تھے اور لوگوں کا اعتبار اور یقین آپ پر اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ آپ کے خاندان کے دشمن بعض دفعہ ان حقوق کے تصفیے کے لئے جن کے متعلق ان کو آپ کے خاندان سے اختلاف ہوتا اس امر پر زور دیتے تھے کہ آپ کو منصف مقرر کر دیا جائے جو فیصلہ آپ دیں وہ ان کو منظور ہو گا۔ غرض آپ کے حالات سے واقف لوگ ہر امر میں آپ پر اعتبار کرتے تھے اور آپ کو راستی اور صداقت کا ایک مجسمہ یقین کرتے تھے۔ مسیحی ، ہندو سکھ گوند ہی اختلاف آپ سے رکھتے تھے مگر اس امر کا اقرار کرتے تھے کہ آر آپ کی زندگی مقدس زندگی ہے ۔ لوگوں کی جو رائے آپ کی نسبت تھی اس کا ایک نمونہ میں ایک شخص کے قلم سے نکلا ہوا پیش کرتا ہوں جو بعد کو آپ کا سخت مخالف ہو گیا اور آپ کے دعوے پر اس نے سب سے پہلے آپ کی تکفیر کا فتوی دیا ۔ یہ صاحب کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ اہل حدیث کے لیڈر اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں ۔ صاحب بٹالوی ہیں۔ جنہوں نے آپ کی ایک کتاب براہین احمدیہ پر ریویو ریویو کرتے ہوئے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں آپ کی نسبت یوں گواہی دی ہے سردار مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مولف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ہمارے ہم مکتب۔ اس زمانے سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری ہے اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔ ۲ ۔ یہ بیان تو ان کا اس امر کے متعلق ہے کہ ان کی شہادت یونہی نہیں بلکہ لمبے تجربہ اور صحت کا نتیجہ ہے اور ان کی شہادت یہ ہے ہماری رائے میں یہ کتاب ( حضرت صاحب کی کتاب ” براہین احمدیہ " ۔ مئولف) اس زمانے میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ اللَّهُ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا اور