انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 425

انوار العلوم جلدے ۴۲۵ دعوة الامير صرف بانی سلسلہ احمد یہ ہیں اس لئے ان کے دعوی کو رد کرنا گویا خدا تعالی کی سنت کا ابطال اور رسول کریم کے اقوال کی ہتک ہے۔ اب میں جناب کے سامنے ان دلائل کو پیش کرتا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوے میں راست باز تھے اور خدا تعالی کی طرف سے مامور اور مرسل تھے اور ان دلائل میں سے سب سے پہلے میں نفس ناطقہ کی دلیل بیان کرتا ہوں۔ میری مراد اس جگہ نفس ناطقہ سے وہ نہیں جو پہلی کتب میں لی جاتی ہے بلکہ نفس ناطقہ سے مراد وہ نفس ہے جسے قرآن کریم نے اپنی صداقت کی آپ دلیل قرار دیا ہے۔ سورۃ یونس میں اللہ تعالی فرماتا ہے وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَتِ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَا أَنْتِ بِقُرْآنِ غَيْرِ هَذَا اوْبَدِّ لَهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّ لَهُ مِنْ تِلْقَائُ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ ۔ عَظِيمٍ قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلُوتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا ادْرُكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ہے اور جب پڑھے جاتے ہیں ان کے سامنے ہمارے کھلے کھلے احکام تو وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آیا اس میں سے قابل اعتراض حصہ بدل دے تو کہہ دے کہ میرا کیا حق ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کلام کو بدل دوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نا فرمانی کروں تو اس بڑے دن کے ہیبت ناک عذاب میں مبتلاء ہو جاؤں گا تو کہہ دے کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو میں یہ کلام تمہارے سامنے پیش نہ کرتا بلکہ اس کے متعلق تمہارے آگے اشارہ بھی نہ کرتا چنانچہ اس سے پہلے میں نے تمہارے اندر ایک عمر گزاری ہے کیا تم اس پر نظر کرتے ہوئے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ میرے جیسا انسان جھوٹ نہیں بول سکتا بلکہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔ اس سے یہ ایک دلیل ہے جو قرآن کریم نے رسول کریم ﷺ کی سچائی کی دی ہے اور یہ دلیل ہر راستباز کے دعوی کی سچائی پر کھنے کیلئے ایک زبردست معیار رہے۔ سورج کی دلیل اس - زبردست اور کچھ نہیں کہ خود سورج موجود ہے۔ اسی طرح صادق اور راستباز کی صداقت کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل اس کا اپنا نفس ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے، مخالفوں اور موافقوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے نا واقفوں اور واقفوں سے کہتا ہے اجنبیوں اور رازداروں سے کہتا ہے کہ مجھے دیکھو اور مجھے جھوٹا کہنے سے پہلے سوچ لو کہ کیا تم مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو ؟ کیا