انوارالعلوم (جلد 7) — Page 397
انوار العلوم جلدے ۳۹۷ دعوة الامير پس علاوہ دوسری علامات سے مل کر زمانہ مسیح موعود کی طرف اشارہ کرنے کے یہ خبر اپنی ذات میں بھی بہت کچھ راہنمائی کا موجب ہے۔ مسیحیت کی اس ترقی کے مقابل اسلام کی حالت رسول کریم ا یوں بیان فرماتے ہیں که بدَءُ الإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْفَرَباءِ ۸۲ اسلام اس زمانے میں بہت ہی کمزور ہو گا بلکہ دجال والی حدیث میں تو فرماتے ہیں کہ بہت سے مسلمان دجال کے پیرو ہو جائیں گے ۔ چنانچہ اب ایسی ہی حالت ہے مسلمان اس شان و شوکت کے بعد جس نے ان کو دنیا کا واحد مالک بنا رکھا تھا آج ایک بے کس اور یتیم بچے کی طرح ہیں کہ بلا بعض مسیحی طاقتوں کی مدد کے ان کو اپنا وجود قائم رکھنا تک مشکل ہے ۔ لاکھوں مسلمان اس وقت مسیحی ہو گئے ہیں اور برابر مسیحی ہو رہے ہیں ۔ دنیا کے مذاہب کی طاقت کے علاوہ مسیح موعود کے زمانے میں جوان اندرونی مذہبی حالت کی باطنی حالت ہونے والی تھی اسے بھی رسول کریم اللہ نے تفصیل سے ب ہے۔ سے بیان فرمایا ہے چنانچہ اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کا نقشہ آپ نے آپ نے اس طرح کھینچا له اس وقت لوگ قدر کے منکر ہو جائیں گے چنانچہ حضرت ع حضرت علی" سے روایت ہے کہ رسول کریم ا نے فرمایا کہ قیامت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ قدر کا انکار کریں گئے۔ اور اس انکارِ قدر سے مراد یقینا مسلمانوں کا انکار ہے کیونکہ دوسری قو میں تو پہلے ہی اس مسئلے پر ایمان نہیں رکھتی تھیں ۔ یہ مرض جس زور سے مسلمانوں میں رونما ہو رہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں علوم جدیدہ کے دلدادہ مسلمان یورپ کے جابل مصنفین کے اعتراض سے ڈر کر صاف صاف قدر کا انکار کر رہے ہیں اور اس مسئلہ مہقہ کی عظمت اور اس کے فوائد اور اس کی صداقت سے بالکل ناواقف ہو رہے ہیں ۔ ران ۸۵ دو سرا تغیر مسلمانوں میں آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ لوگ زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے ۔ یہ بھی حضرت علی سے البزار نے نقل کیا ہے ۔ چنانچہ ) چنانچہ اس وقت جب کہ مسلمانوں پر چاروں طرف سے آفات نازل ہو رہی ہیں اور زکوۃ کے علاوہ بھی جس قدر صدقات و خیرات وہ دیں کم ہیں ۔ اکثر مسلمان زکوۃ کی ادائیگی سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے جی چراتے ہیں اور جہاں اسلامی احکام کے ماتحت زکوۃ لی جاتی ہے وہاں تو بادل نخواستہ کچھ ادا بھی کر دیتے