انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 393

انوار العلوم جلدے ۳۹۳ دعوة الامير پچھلے واقعات کے ساتھ اس طرح خلط کر کے بیان کیا گیا ہے کہ جب تک ان واقعات کو جو بطور علامات مهدی بیان کئے گئے ہیں لیکن ہیں زمانہ گزشتہ کے الگ نہ کر دیا جائے حقیقت حال سے آگاہی نہیں ہو سکتی ان لوگوں نے جو تاریخ اسلام سے ناواقف تھے ان احادیث سے بہت دھوکا کھایا ہے اور آئندہ زمانے میں بعض ایسے امور کے وقوع کے منتظر رہے ہیں جو ان احادیث کے بنائے جانے سے بھی پہلے واقعہ ہو چکے ہیں اور ان کو علامات مہدی میں شامل کرنے کی وجہ صرف اپنے اپنے فرقے کی سچائی ثابت کرنا تھی۔ پس علامات مهدی پر غور کرتے ہوئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان علامات کو الگ کر لیں جو کسی واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتیں تاکہ اس گڑھے میں گرنے سے بچ جائیں جو بعض خود غرض لوگوں نے اپنی اغراض کو پورا کرنے کیلئے کھودا تھا۔ رسول کریم ال پر خدا تعالیٰ کی بے انتہاء رحمتیں اور درود ہوں آپ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کی علامات بیان کرتے وقت ایک ایسے طریق کو مد نظر رکھا ہے جس کو یاد رکھتے ہوئے انسان بڑی آسانی سے دھوکا دینے والے کے دھوکے سے بچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ آپ نے مسیح و مہدی کے زمانے کے متعلق جو علامات بتائی ہیں ان کو زنجیر کے طور پر بیان کیا ہے جس کی وجہ سے ملاوٹ کرنے والے کی ملاوٹ کا پورا پتہ لگ جاتا ہے اگر آپ اس قسم کی مثلاً علامت بتاتے کہ اس کا یہ نام ہو گا اور فلاں نام اس کے باپ کا ہو گا تو بہت سے لوگ اس نام کے دعوے کرنے کیلئے تیار ہو جاتے پس آپ نے اس قسم کی علامتیں بیان کرنے کے بجائے جن کا پورا کرنا انسانوں کے اختیار میں ہے اس قسم کی علامتیں بیان فرمائی ہیں جن کا پورا کرنا نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ وہ سینکڑوں سال کے تغیرات کے بغیر ہو ہی نہیں سکتیں۔ پس کوئی انسان بلکہ انسانوں کی ایک جماعت نسلاً بعد نسل کوشش کر کے بھی ان حالات کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔ دوسری بات علامات مہدی کے بیان کرنے میں یہ مد نظر رکھی گئی ہے کہ بعض علامتیں ان میں ایسی بیان کر دی گئی ہیں جن کی نسبت یہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ یہ علامات سوائے مہدی کے زمانے کے اور کسی وقت اس کی آمد سے پہلے ظاہر نہ ہوں گی۔ پس ان اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جب و ہوئے جب وہ زمانہ ہمیں معلوم ہو جائے جس کے ساتھ مسیح موعود اور مہدی معہود کا کام متعلق ہے اور جب وہ علامات پوری ہو جائیں جن کی نسبت بتایا گیا ہے کہ سوائے مہدی کے زمانے کے کسی وقت ان کا ظہور نہیں ہو سکتا اور جب زمین و آسمان کے بہت