انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 391

انوارالعلوم جلدے ۳۹۱ دعوة الامير ۴- ایک خطرناک اور پر آشوب زمانہ جس کی خبر نہایت منذر الفاظ میں آنحضرت اللہ نے دی تھی اور جو اپنے ہیبت ناک اثرات سے اسلام کی جڑوں کو ہلا دینے والا ثابت ہونے والا تھا اس کی آفات کا ازالہ اور آئندہ ہمیشہ کیلئے اسلام کے محفوظ کر دینے کا کام مسیح موعود کے سپر د بتایا گیا تھا پس مسیح موعود کا انتظار مسلمانوں کو اسی طرح ہو رہا تھا جیسا کہ ایک رحمت کے فرشتے کا ہونا چاہئے۔ رسول کریم ال کے یہ الفاظ کہ كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا فِي أَوَّلِهَا وَالْمَسِيحُ فِي اخرها ۲۔ وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہو گا بھی خواہان اسلام کو مسیح علیہ السلام کی آمد کیلئے بے تاب کر رہے تھے کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اس کی آمد کے بعد اسلام چاروں طرف سے مضبوط دیواروں میں گھر کر شیطانوں کے حملوں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائے گا۔ ان چاروں باتوں نے مل کر مسیح کی آمد کے مسئلے کو مسلمانوں کیلئے ایک اصولی سوال بنا دیا تھا اور ممکن نہ تھا کہ ایسا زمانہ جو ایک طرف تو عاشقان رسالت مآب کو اپنے محبوب کے روبرو کرنے والا تھا، خواہ علیت اور مماثلت کے پردے ہی میں سہی اور دوسری طرف اسلام کو حشر انگیز صدمات سے نکال کر حفاظت اور امن کے مقام پر کھڑا کرنے والا تھا، بلا کافی پیتے اور نشان وہی کے چھوڑ دیا جاتا۔ یہ تو نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے کہ ماموروں اور مرسلوں کے زمانے اور ان کی ذات کی طرف ایسے الفاظ میں رہنمائی کی جائے کہ گویا متلاشی کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دیا جائے کیونکہ اگر اس طرح کیا جاتا تو ایمان بے فائدہ ہو جاتا اور کافر اور مومن کی تمیز مٹ جاتی ۔ ہمیشہ ایسے ہی الفاظ میں ماموروں کی خبر دی جاتی ہے جن سے ایمان اور شوق رکھنے والے ہدایت پا لیتے ہیں اور شریر اپنی ضد اور ہٹ کے لئے کوئی آڑ اور بہانہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چڑھے ہوئے سورج کا کون انکار کر سکتا ہے ؟ مگر اس پر ایمان لانے کا ثواب اور اجر بھی کون دیتا ہے ؟ پس ایک حد تک راہنمائی اور ایک حد تک اخفاء ضرور کیا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔ مسیح موعود کے زمانے کی خبروں میں بھی اسی اصل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ اس کے زمانے کی خبریں ایسے الفاظ میں دی گئی ہیں جس قسم کے الفاظ میں تمام گزشتہ انبیاء کے متعلق خبریں دی جاتی رہی ہیں مگر پھر بھی ایک بچے متلاشی اور صاحب بصیرت کیلئے وہ ایک روشن نشان سے کم