انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 380

انوار العلوم جلدے ۳۸۰ دعوة الامير نے کیوں احکام الہی پر عمل نہیں کیا تھا تو یہ ظلم ہو گا اور اللہ تعالی ظالم نہیں پس ممکن نہیں کہ لوگ ہدایت کے محتاج ہوں لیکن وہ ان کی ہدایت کا سامان نہ کرے۔ پیچھے جو مضمون گذرا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی رو سے جب کسی زمانے کے لوگ ہدایت کے محتاج ہوں تو اللہ تعالی ان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتا رہتا ہے لیکن قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس عام قاعدے کے علاوہ امت محمدیہ سے اس کا ایک خاص وعدہ بھی ہے وہ یہ ہے - إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَانَا لَهُ لَحَفِظُونَ ۲۷۔ ہم نے ہی اس تعلیم کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ۔ اب حفاظت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو حفاظت ظاہری اور ایک حفاظت معنوی جب تک دونوں قسم کی حفاظت نہ ہو کوئی چیز محفوظ نہیں کہلا سکتی مثلاً اگر ایک پرندے کی کھال اور چونچ اور پاؤں محفوظ کر لئے جائیں اور اس میں بھس بھر کر رکھ لیا جائے تو وہ پرندہ زمانے کے اثر سے محفوظ نہیں کہلائے گا اسی طرح اگر اس کی چونچ ٹوٹ جائے پاؤں شکستہ ہو جائیں بال بچ جائیں تو وہ بھی محفوظ نہیں کہلا سکتا۔ ایک کتاب جس کے اندر لوگوں نے اندر لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ عبارتیں زائد کر دی ہوں یا اس کی بعض عبارتیں حذف کر دی ہوں یا جس کی زبان مردہ ہو گئی ہو اور کوئی اس کے سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو یا جو اس غرض کے پورا کرنے سے قاصر ہو گئی ہو جس کیلئے وہ نازل کی گئی تھی محفوظ نہیں کہلا سکتی کیونکہ گو اس کے الفاظ محفوظ ہیں مگر اس کے معانی ضائع ہو گئے ہیں اور معانی ہی اصل شے ہیں ۔ الفاظ کی حفاظت بھی صرف معنی کی حفاظت ہی کیلئے کی جاتی ہے پس قرآن کریم کی حفاظت سے مراد اس کے الفاظ اور اس کے مطالب دونوں کی حفاظت ہے۔ کریم اس وعدے کے ایک حصے کو پورا کرنے کے یعنی قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کیلئے اللہ تعالیٰ نے جو سامان کئے ہیں ان کا مطالعہ انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔ جب تک قرآن نازل نہ ہوا تھا نہ عربی زبان مدون ہوئی تھی، نہ اس کے قواعد مرتب ہوئے تھے نہ لغت تھی نہ محاورات کا احاطہ کیا گیا تھا نہ معانی اور بیان کے قواعد کا استخراج کیا گیا تھا اور نہ تحریر کی حفاظت کا سامان ہی کچھ موجود تھا، مگر قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ تعالی نے مختلف لوگوں کے دلوں میں القاء کر کے ان سب علوم کو مدون کروایا اور صرف قرآن کریم ہی کی حفاظت کے خیال سے علم صرف و نحو اور علم معانی و بیان اور علم تجوید اور علم لغت اور علم محاورہ زبان اور