انوارالعلوم (جلد 7) — Page 371
انوار العلوم جلدے ۳۷۱ دعوت الامير ۵۲ اور اس کا رسول لوگوں کو بلاتے تھے اور آج کو نسا جہاد ہے جس کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے۔ قرآن کریم جس جہاد کی طرف ہمیں بلاتا ہے وہ تو یہ ہے کہ فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَجَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كبيرا ٥٢۔ یعنی کافروں کی بات نہ مان اور اس قرآن کے ذریعہ سے کفار کے ساتھ ایک بہت بڑا جہاد کر مگر آج کیا مسلمان اسی جہاد بالقرآن کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ کس قدر لوگ ہیں جو قرآن کریم ہاتھ میں لے کر کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ کیا اسلام اور قرآن میں کوئی بھی ذاتی جو ہر نہیں جس سے وہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اسلام کے سچا ہونے کا کیا ثبوت ہے ۔ انسانوں کے کلام لوگوں کا دل قابو میں کر لیتے ہیں مگر صرف خدا ہی کا کلام ایسا بے اثر ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے دل فتح نہیں ہو سکتے اس لئے تلوار کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو منوایا جائے مگر آج تک نہیں دیکھا گیا کہ تلوار کے ساتھ دل فتح کئے جاسکے ہوں اور اسلام تو اس بات پر لعنت بھیجتا ہے کہ مذہب ڈریا لالچ سے قبول کیا جائے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَسْهَد إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ ٥ ٥٣ یعنی منافق جب تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے مگر اللہ یہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ اگر اسلام کے پھیلانے کیلئے تلوار کا جہاد جائز ہوتا تو کیا وہ لوگ جو اسلام لے آئے تھے مگر دل میں منافق تھے ان کا ذکر قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا جو اوپر بیان ہوئے ہیں کیونکہ اس صورت میں تو یہ لوگ گویا قرآنی تعلیم کا نتیجہ ہوتے کون امید کر سکتا ہے کہ تلوار کے ساتھ وہ مخلص لوگوں کی جماعت پیدا کرے گا۔ پس یہ بات غلط ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے سے غیر مذاہب والوں کو اسلام میں داخل کرنے کا حکم دیتا ہے اسلام تو سب سے پہلا مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہب کے متعلق آزادی ہونی چاہئے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ٥٣ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہدایت گمراہی سے ممتاز ہو گئی ہے پس ہر ایک شخص دلائل کے ساتھ حق کو قبول کرنے یا رو کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح فرماتا ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ٥٥٥- اور دین کی لڑائی ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر یہ خیال رکھو کہ زیادتی نہ کر بیٹھو۔ پس جب کہ اسلام صرف ان سے دینی جنگ