انوارالعلوم (جلد 7) — Page 363
انوار العلوم جلدے ۳۶۳ دعوت الامير در حقیقت یہ غلطی جس میں اس وقت کے مسلمان پڑ گئے ہیں (اس وقت میں اس لئے کہتا ہوں کہ پہلے بزرگوں کی کتب اس غلط عقیدے کے خلاف ظاہر کر رہی ہیں جیسے حضرت محی الدین ابن عربی ، حضرت ملا علی قاری اور علامہ ابن قیم کی کتب ، حضرت مولانا روم کی مثنوی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے مکتوبات وغیرہ) اس سے پیدا ہوتی ہے کہ انہوں نے نبوت کے معنی سمجھنے میں غلطی کی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ نبی وہی ہوتا ہے جو کوئی جدید شریعت لائے یا پہلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا پہلے نبی کی اطاعت سے باہر ہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ باتیں نبی کیلئے ضروری نہیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی ان تینوں قسموں میں سے کسی ایک میں شامل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص میں یہ تینوں باتیں نہ ہوں۔ نہ وہ کوئی جدید کتاب لائے نہ پہلی شریعت کے کسی حکم کو منسوخ کرے اور نہ نبوت اسے براہ راست ملے اور پھر بھی وہ نبی ہو کیونکہ نبوت ایک خاص مقام قرب کا نام ہے جس مقام پر فائز شخص کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح کرے اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچ کر لائے اور مردہ دلوں کو زندگی بخشے اور خشک زمین کو شاداب کرے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کلام لوگوں کی ہدایت کیلئے نازل ہوا ہو اسے لوگوں تک پہنچائے اور ایک ایسی جماعت پیدا کرے جو اپنی زندگیوں کو حق کی اشاعت میں لگا دے اور اس کے نمونے کو دیکھ کر اپنے دلوں کی اصلاح کرے اور اپنے اعمال کو درست کرے ۔ غرض نبوت کی نفی نبوت کے مفہوم کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے ورنہ بعض اقسام کی نبوتیں تو بجائے رسول کریم ال کی شان گھٹانے کے آپ کی شان بڑھانے والی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم اس کے بعد نبوت کا سلسلہ بند کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلِكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ ٢٠ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ پس اب کوئی نبی نہیں آسکتا لیکن قرآن کریم کھول کر نہیں دیکھا جاتا کہ اللہ تعالٰی خَاتَمَ النَّبِيِّينَ بِفَتْحِ نا فرماتا ہے نہ بِكَسْرِنَا۔ اور خَاتَمَ بِفَتح نا“ کے معنی مہر کے ہوتے ہیں نہ کہ ختم کر دینے کے اور مہر تصدیق کیلئے لگائی جاتی ہے ۔ پس اس آیت کے تو یہ معنی ہوں گے کہ محمد ال نبیوں کی مہر ہیں چنانچہ امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں خاتم النبین کے معنی نبیوں کی مہر والے نبی کے ہی کئے ہیں اور اس آیت کی تشریح میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن سے معلوم "