انوارالعلوم (جلد 7) — Page 345
انوار العلوم جلدے ۳۴۵ دعوة الامير کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ تیرہ سو سال (۱۳۰۰) کے عرصہ میں صرف انہیں پر کھلا ہے اور پہلے بزرگ اس سے واقف و آگاہ نہ تھے مگر افسوس کہ معترض اپنی نظر کو صرف ایک خاص خیال کے لوگوں تک محدود کر کے اس کا نام اجماع رکھ لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کے اول علماء خود صحابہ " ہیں اور بعد ان ۔ کے علماء کا سلسلہ نہایت وسیع ہو تا ہو ا سب دنیا میں پھیل گیا ہے۔ صحابہ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو وہ سب بہ یک زبان ہمارے خیال سے متفق ہیں اور یہ ہو بھی کب سکتا تھا کہ وہ عشاق رسول ﷺ آپ کی شان کے مزیل عقیدہ کو ایک دم کیلئے بھی تسلیم کرتے وہ اس بارہ میں ہم سے متفق ہی نہیں ہیں بلکہ رسول کریم ا کی وفات کے بعد سب سے پہلا اجماع ہی انہوں نے اس مسئلہ پر کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں چنانچہ کتب احادیث اور تواریخ میں یہ روایت درج ہے کہ رسول کریم اللہ کی وفات کا صحابہ پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ گھبرا گئے اور بعض سے تو بولا بھی نہ جاتا تھا اور بعض سے چلا بھی نہ جاتا تھا اور بعض اپنے حواس اور اپنی عقل کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بعض پر تو اس صدمہ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ چند دن میں گھل گھل کر فوت ہو گئے ۔ حضرت عمر پر اس صدمہ کا اس قدر اثر ہوا کہ آپ نے حضور کی وفات کی خبر کو باور ہی نہ کیا اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم اے فوت ہو گئے ہیں تو میں اسے قتل کر دوں گا آپ تو موسیٰ علیہ السلام کی طرح بلائے گئے ہیں جس طرح وہ چالیس دن کے بعد واپس آگئے تھے اسی طرح آپ کچھ عرصہ کے بعد واپس تشریف لائیں گے اور جو لوگ آپ پر الزام لگانے والے ہیں اور منافق ہیں ان کو قتل کریں گے اور صلیب دیں گے اور اس قدر جوش سے آپ اس دعوے پر مصر تھے کہ صحابہ " میں سے کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ آپ کی بات کو رد کرتا اور آپ کے اس جوش کو دیکھ کر بعض لوگوں کو تو یقین ہو گیا کہ یہی بات درست ہے ، آنحضرت ا فوت نہیں ہوئے اور ان کے چہروں پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور یا تو سر ڈالے بیٹھے تھے یا خوشی سے انہوں نے سر اٹھا لئے۔ اس حالت کو دیکھ کر بعض دور اندیش صحابہ نے ایک صحابی کو دوڑایا کہ وہ حضرت ابو بکر اللہ کو جو اس وجہ سے کہ درمیان میں آنحضرت اللہ کی طبیعت کچھ اچھی ہو گئی تھی آپ کی اجازت سے مدینہ کے پاس ہی ایک گاؤں کی طرف گئے ہوئے تھے جلد لے آئیں۔ وہ چلے ہی تھے کہ حضرت ابو بکر ان کو مل گئے ان کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جوش گریہ کو ضبط نہ کر سکے ۔ حضرت ابو بکرہ سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہے اور رضي