انوارالعلوم (جلد 7) — Page 335
انوار العلوم جلدے ۳۳۵ دعوة الامير ے۔ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو ٹالتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے جس کی زندگی کو انسان ہر زمانے میں اور ہر وقت محسوس کرتا ہے۔ اس کی مثال اس سیڑھی کی نہیں جسے کنواں بنانے والا بناتا ہے اور جب وہ کنواں مکمل ہو جاتا ہے تو سیڑھی کو توڑ ڈالتا ہے کہ اب وہ کسی مصرف کی نہیں رہی اور کام میں خارج ہو گی بلکہ اس کی مثال اس نور کی ہے کہ جس کے بغیر سب کچھ اندھیرا ہے اور اس روح کی ہے جس کے بغیر چاروں طرف موت ہی موت ہے اس کے وجود کو بندوں سے جدا کر دو تو وہ ایک جسم بے جان رہ جاتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ اس نے کبھی دنیا کو پیدا کیا اور اب خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنے بندوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عجز و انکسار پر توجہ کرتا ہے اور اگر وہ اسے بھول جائیں تو وہ خود اپنا وجود انہیں یاد دلاتا ہے اور اپنے خاص پیغام رسانوں کے ذریعے ان کو بتاتا ہے کہ انِي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ۔ میں قریب ہوں ہر ایک پکار نے والے کی آواز کو جب وہ مجھے پکارتا ہے سنتا ہوں پس چاہیے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں۔ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے ۔ صرف یہی قانون قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے ۔ یہ وہی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانون قدرت کہتے ہیں حالانکہ وہ طبعی قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے۔ بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف و کمزور موسیٰ فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا، یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پا جاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجو د برباد ہو جاتا پھر اگر کوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول الله اللا کی تباہی کے درپے ہوتا مگر اللہ تعالٰی آپ کو ہر میدان میں غالہ آپ کو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہر حملہ دشمن سے