انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 330

انوار العلوم جلدے ٣٣٠ دعوة الامير کسی نئے مذہب کی پابند نہیں ہے بلکہ اسلام اس کا مذہب ہے اور اس سے ایک قدم ادھر ادھر ہونا وہ حرام اور موجب شقاوت خیال کرتی ہے۔ اس کا نیا نام اس کے نئے مذہب پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی صرف یہ غرض ہے کہ یہ جماعت ان دوسرے لوگوں سے جو اسی کی طرح اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ممتاز حیثیت میں دنیا کے سامنے پیش ہو سکے ۔ اسلام ایک پیارا نام ہے جو خود اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو بخشا ہے اور اس نام کو اس نے ایسی عظمت دی ہے کہ اسکے متعلق وہ پہلے انبیاء کے ذریعے پیشگوئیاں کرتا چلا آیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ هُوَ سَمْكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا یعنی اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے پہلی کتابوں میں بھی اور اس کتاب میں بھی۔ چنانچہ جب ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو یسعیاہ میں یہ پیشگوئی اب تک درج پاتے ہیں کہ ” تو ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کامنہ خود رکھ دیگا ۔۔ پس اس نام سے زیادہ مقدس نام اور کونسا ہو سکتا ہے جسے خود خدا نے اپنے بندوں کیلئے چنا اور جسے اس قدر بزرگی دی کہ پہلے نبیوں کی زبان سے اس کیلئے پیشگوئیاں کرائیں اور کون ہے جو اس مقدس نام کو چھوڑ نا پسند کر سکتا ہے؟ ہم اس نام کو اپنی جان سے ؟ جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اس مذہب کو اپنی حقیقی حیات کا موجب۔ مگر چونکہ اس زمانے میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیال کی طرف رجوع کر کے اپنے مختلف نام رکھ لیتے ہیں اس لئے ضروری تھا کہ ان سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کیلئے کوئی نام اختیار کیا جاتا اور بہترین نام اس زمانے کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے احمد ی ہی تھا کیونکہ یہ زمانہ رسول کریم اللہ کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی اشاعت کا زمانہ ہے پس آپ کی صفت احمدیت کے ظہور کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نام سے بہتر کوئی امتیازی نام امتیازی نام اس وقت س وقت نہیں ہو سکتا تھا۔ غرض ہم لوگ سچے دل سے مسلمان ہیں اور ہر ایک ایسی بات کو جس کا ماننا ایک بچے مسلمان کیلئے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک سچے مسلمان کیلئے ضروری ہے اسے رو کرتے ہیں اور وہ شخص جو باوجود تمام صداقتوں کی تصدیق کرنے کے اور اللہ تعالٰی کے تمام احکام کو ماننے کے ہم پر کفر کا الزام لگاتا ہے اور کسی نئے مذہب کا ماننے والا قرار دیتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں جواب وہ ہے ۔ انسان اپنے منہ کی بات پر پکڑا جاتا ہے نہ کہ اپنے دل کے خیال پر - کون کہہ سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے ؟ جو شخص کسی