انوارالعلوم (جلد 7) — Page 314
انوار العلوم جلدے ۳۱۴ پیغام صلح کیا انہوں نے اپنے جنگی بیڑے تو ڑ دیتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان صلح کے لئے مضبوط ہونے کی ضرورت نہ سمجھیں اس کے بغیر نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔ ہمیں خود مضبوط ہونا چاہئے اور ہندوؤں کے مضبوط ہونے پر برا نہیں ماننا چاہئے ۔ یہ نادانی کی امید ہے کہ چونکہ صلح ہو گئی ہے اس لئے ہندو اپنی تیاری چھوڑ دیں اسی طرح یہ بھی نادانی کی توقع ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو مضبوط نہ بنائیں۔ قرآن کریم تو مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِدْرَكُمْ فَانْفِرُ و أَثْبَاتِ أَوِ انْفِرُ وا جَمِيعًا * * تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے اور اپنی حفاظت کے سامان کرنے چاہیں۔ میرے نزدیک جو شخص غیر مسلح ہو کر صلح کرتا ہے وہ سوالی ہے اور سوالی سے صلح کے کیا معنی صلح مسلح ہی کی ہوتی ہے۔ پس اگر ہم تیار نہیں ہماری قوم محفوظ نہیں اور صلح کے لئے جاتے ہیں تو یہ صلح کی درخواست نہیں بلکہ سوال ہے اور اپنے عجز کا اظہار ہے۔ پس مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ مضبوط ہوں اور اس کے لئے آرگنائزیشن کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں نے مسلم لیگ کو جو تو ڑایا توڑنے کی طرح بنا دیا یہ سخت غلطی کی ہے ایسی لیگ ضرور ہونی چاہئے جو مسلمانوں کی قومی طور پر محافظ ہو ان کے حقوق کی حفاظت کرے ان کی ملازمتوں کا خیال رکھے ۔ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے مگر میں کہتا ہوں کہ ہندو جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھے ہوئے ہیں جب وہ یہ باتیں کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں۔ جب ہند و با وجو د مال میں ، دولت میں ، تجارت میں، ملازمتوں میں زیادہ ہونے کے کہتے ہیں کہ ملازمتوں کے حقوق کالجوں میں داخلہ کے حقوق کو نسلوں میں انتخاب کے حقوق ان کو زیادہ ملیں تو کیوں مسلمان ان باتوں میں کوشش نہ کریں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو تمدنی طور پر اپنے مسلمان تمدنی طور پر آزاد ہوں آپ کو آزاد کر لینا چاہئے۔ پچھلے دنوں ایک ہندو لیڈر نے جو غالبا بین چند ریال تھے لکھا تھا کہ مسلمانوں کو ہم تین ماہ کے اندر اندر درست کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ مسلمانوں نے اپنی قومی زندگی کے سارے ذرائع دوسروں کے سپرو کر دیتے ہیں۔ اور کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی اور نہ زندہ رہنے کا حق رکھتی ہے جسے دوسری قوم اگر مقاطعہ کرے تو وہ زندہ نہ رہ سکے ۔ مسلمانوں کو اگر زندہ رہنا ہے تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہئے اور دوسرے کی محتاجی سے اپنے آپ کو آزاد کر لینا چاہئے۔ اس کے لئے جن باتوں کی ضرورت