انوارالعلوم (جلد 7) — Page 308
انوار العلوم جلدے ٣٠٨٠ پیغام صلح سنگٹھن پھر ایک اور تحریک جو ان فسادوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پہلے کی تھی اس کو اب زیادہ زور حاصل ہو گیا اور وہ سنگٹھن کی تحریک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تحریک ہندو مسلمانوں کے موجودہ فسادات کی وجہ سے شروع ہوئی مگر جو شخص پنڈت مالویہ صاحب کے حالات سے واقف ہو گا اسے معلوم ہو گا کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا ہے اسی وقت سے اس تحریک میں لگے ہوئے ہیں ۔ ہاں پہلے ان کی کوئی بات نہیں سنتا تھا مگر ملتان کے واقع سے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور ہندوؤں کو اس کے لئے تیار کر لیا ہے۔ مسلمان اس تحریک سے برک گئے اور انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ہندوؤں کی یہ کمیٹیاں جو الگ بن رہی ہیں یہ ہمارے خلاف اور ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے بنی ہیں یہ نہیں بننی چاہئیں۔ فسادات کے بعد اس تحریک کے زور پکڑ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہی خیال آیا کہ یہ فسادات کے بعد شروع ہوئی ہے۔ مگر دراصل یہ پہلے کی شروع ہے جن حالات کے ماتحت اس میں زور آیا ہے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف کہہ سکتے ہیں۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس تحریک پر ناراض ہوں اور یہ کہیں کہ : کہ ہندو کیوں اس پر عمل کرتے ہیں۔ شدھی کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ یہ ہندوؤں نے شروع کی اور مسلمانوں تحریک شدھی میں اس کی وجہ سے بھی نارضگی پیدا ہوئی مگر میں قطعا نہیں سمجھتا کہ مسلمان ۔ ا شدھی پر ناراض کیوں ہیں ۔ ہندوؤں کا شد بھی کو جاری کرنا ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کا دوسروں کو مسلمان بنانا۔ پس اگر کوئی دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرتا ہے تو ہم ناراض کیوں ہوں۔ عیسائی ہندوؤں سے زیادہ لوگوں کو عیسائی بنا رہے ہیں ان سے کوئی ناراض نہیں ہوتا پھر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمان ہندوؤں سے شدھی کی وجہ سے کیوں ناراض ہیں۔ میں نے بارہا اپنی گفتگوؤں اور تقریروں میں ذکر کیا ہے کہ شدھی پر ناراض ہونے کی مسلمانوں کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں چونکہ ان کے مذہب میں کسی کو داخل کرنے کی اجازت نہیں اس لئے مسلمان ناراض ہیں مگر میں کہتا ہوں اس پر تو ان کے پنڈتوں کو ناراض ہونا چاہئے نہ کہ ہمیں۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی ہندو مسلمانوں سے اس بات پر لڑے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ۔ میرے نزدیک مسلمانوں کو شدھی پر قطعا ناراض نہیں ہونا چاہئے اور میں تو اس کو نہایت ہی پسند کرتا ہوں کیونکہ جب تک کسی قوم میں یہ ولولہ نہ ہو کہ دوسروں کو اپنے اندر داخل کرے اس وقت تک وہ بھی دوسروں میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اب جبکہ ہندوؤں میں یہ ولولہ پیدا ہو رہا ہے