انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 301

انوار العلوم جلدے ٣٠١ پیغام صلح اور اس کے ٹوٹنے کی وجہ یہی ہے کہ اس کی بنیاد وقتی جوش پر تھی صلح ٹوٹنے کی وجہ اول اور جوش نہ رہنے پر اسی طرح گر گئی جس طرح اگر ایک بیمار آدمی کو عظیم الشان خوشخبری سنائی جائے تو پہلے اگر وہ دوسروں کے سہارے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت خود بخود کھڑا ہو جائے گا مگر اس کے بعد اس کو پہلے سے بھی زیادہ کمزوری محسوس ہو گی اسی طرح وقتی جوش کی وجہ سے ہندو مسلمان اکٹھے ہو گئے مگر پھر ایک دوسرے سے لڑنے لگ گئے اور پہلے سے بھی زیادہ لڑنے لگ گئے ۔ پھر اس صلح کے قائم نہ رہنے کی ایک اور وجہ بھی ہے صلح قائم نہ رہنے کی ایک اور وجہ اور وہ یہ کہ لوگوں کی نیتیں درست نہ تھیں ۔ کچھ عرصہ ہوا اسی جگہ میں نے ایک لیکچر دیتے ہوئے بیان کیا تھا کہ جب نیتیں نیک نہ ہوں اس وقت تک صلح نہیں ہو سکتی اور اگر ہو جائے تو قائم نہیں رہ سکتی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس کے متعلق میں صرف مسلمانوں پر الزام نہیں لگاتا اور اسی طرح صرف ہندوؤں پر بھی الزام نہیں لگاتا میرے نزدیک دونوں پر یہ الزام لگتا ہے ۔ چونکہ ہمیں ان معاملات سے الگ سمجھا جاتا ہے اس لئے ہم سے دونوں جماعتوں کے لوگ تعلق رکھتے ہیں اور دونوں جماعتوں کے لوگ ملتے ہیں جنہوں نے اصل حقیقت بتادی اس لئے میں دونوں کے متعلق کہتا ہوں کہ ان کی نیتیں درست نہ تھیں ۔ ہم سے ایسے ہندو ملے جنہوں نے کہا کہ مسلمان بیرونی ممالک کے مسلمانوں پر اپنی اطاعت کا انحصار رکھتے ہیں مگر سو راجیہ مل لینے دو ہم ان کی خبر لے لیں گے اسی طرح ہم سے ایسے مسلمان ملے جنہوں نے کہا ہندوؤں کو اپنی کثرت کا گھمنڈ ہے مگر انگریزوں کو نکل جانے دو پھر ہم ان کو سیدھا کرلیں گے۔ پس دونوں کی نیتیں درست نہ تھیں اور صلح چونکہ نیتوں کی صفائی کے بغیر نہیں ہو سکتی اس لئے نہ ہوئی۔ اب میں وہ بنیادیں بیان کرتا ہوں جن پر صلح صلح کی تین نہ قائم رہنے والی بنیادیں رکھی گئی تھی۔ وہ تین ہیں (1) یہ کہ سوراج قلیل عرصہ میں مل جائے گا۔ (۲) خلافت ترکی کی قائم ہو جائے گی۔ (۳) مذہبی اختلافات کو درمیان سے مٹا دینے کی کوشش اور یہ تجویز کہ ان اختلافات کو بالکل مٹادو اور کبھی یاد ہی نہ کرو کہ ہندو مسلمانوں میں کوئی مذہبی اختلاف ہے۔ ان میں سے دو پہلی باتیں تو بطور مقصد کے تھیں اور تیسری ذریعہ کے طور پر مگر تینوں ایسی