انوارالعلوم (جلد 7) — Page 295
انوار العلوم جلدے ۲۹۵ پیغام صلح بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ موجودہ مشکلات کا صحیح حل یعنی ہندوؤں مسلمانوں میں کیونکر اتحاد ہو سکتا ہے ) حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی کی پبلک تقریر جو حضور نے ۱۴۔ نومبر ۱۹۲۳ء کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک بہت بڑے مجمع میں بریڈ لا ہال لاہور میں فرمائی۔) سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا ۔ گو ہمارے ملک کی اس وقت جو حالت ہے مسلمان موجودہ مشکلات میں نہیں گھبراتا اور جس قسم کے فتنے اور فساد اس میں پیدا ہو رہے ہیں وہ ہر ایسے شخص کو جس کے دل میں اپنے ملک اور اپنے وطن سے ذرہ بھی الفت ۔ اور محبت ہو سکتی ہے متفکر کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن میں ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا ہوں جس نے اپنی ابتداء الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے سے شروع کر کے امید کا ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ اور میں اس کتاب سے مذہبی تعلق رکھتا ہوں جس نے مسلمانوں کو یہ کہکر وَاخِرُ دَعَوْ هُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّهِ إِنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ "- وہ انجام پر بھی خدا تعالیٰ کی حمد ہی کرنے والے ہونگے میرے دل میں امید کی کبھی نہ ختم ہو ۔ ختم ہونے والی لہر پیدا کر دی ہے اس لئے گو موجودہ حالات نہایت ہی تاریک ہیں مگر میں امید سے بھرا ہوا دل رکھتا ہو ا یقین رکھتا ہوں کہ اگر آج نہیں تو کل ملک میں امن ہو جائے گا اور اگر اس وقت نہیں تو پھر دوسرے وقت میں لوگ فتنہ و فساد نا اتفاقی اور بے اتحادی کی راہ چھوڑ کر صلح اور آشتی کی طرف آجائیں گے۔