انوارالعلوم (جلد 7) — Page 289
انوار العلوم جلد ہے ۲۸۹ باشد یک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ ہے کہ بوجہ مدت گذر جانے کے واقعات آگے پیچھے بیان ہو گئے ہوں۔ جس وقت یہ خط مجھے ملا میری خوشی کی انتہاء نہ رہی اور میں نے چاہا کہ اس جماعت کی مزید تحقیق کے لئے فتح محمد صاحب کو لکھا جائے کہ اتنے میں ان کے رشتہ داروں کی طرف سے مجھے اطلاع ملی کہ سرکاری تار کے ذریعہ ان کو اطلاع ملی ہے کہ فتح محمد صاحب میدان جنگ میں گولی لگنے سے فوت ہو گئے ہیں۔ اس خبر نے تمام امید پر پانی پھیر دیا اور سردست اس ارادہ کو ملتوی کر دینا پڑا۔ مگر یہ خواہش میرے دل میں بڑے زور سے پیدا ہوتی رہی اور آخر ۱۹۲۱ء میں میں نے ارادہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو اس علاقہ کی خبر لینی چاہئے۔ چونکہ انگریزی اور روسی حکومتوں میں اس وقت صلح نہیں تھی اور ایک دوسرے پر سخت بد گمانی تھی اور پاسپورٹ کا طریق ایشیائی علاقہ کے لئے تو غالبا بند ہی تھا یہ وقت درمیان میں سخت تھی اور اس کا کوئی علاج نظر نہ آتا تھا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح بھی ہو اس کام کو کرنا چاہئے اور ان احباب میں سے جو زندگی وقف کر چکے ہیں ایک دوست میاں محمد امین صاحب افغان کو میں نے اس کام کے لئے چنا اور ان کو بلا کر سب مشکلات بتا دیں اور کہدیا کہ آپ نے زندگی وقف کی ہے اگر آپ اس عہد پر قائم ہیں تو اس کام کے لئے تیار ہو جائیں۔ جان اور آرام ہر وقت خطرہ میں ہوں گے اور ہم کسی قسم کا کوئی خرچ آپ کو نہیں دیں گے آپ کو اپنا قوت خود کھانا ہو گا۔ اس دوست نے بڑی خوشی سے ان باتوں کو قبول کیا اور اس ملک کے حالات دریافت کرنے کے لئے اور سلسلہ کی تبلیغ کے لئے بلا زاد راہ نور آنکل کھڑے ہوئے۔ کوئٹہ تک تو ریل میں سفر کیا سردی کے دن تھے اور برفانی علاقوں میں سے گزرنا پڑتا تھا مگر سب تکالیف برداشت کر کے بلا کافی سامان کے دو ماہ میں ایران پہنچے اور وہاں سے روس میں داخل ہونے کے لئے چل پڑے۔ آخری خط ان کا مارچ ۱۹۲۲ء کا لکھا ہوا پہنچا تھا اس کے بعد نہ وہ خط لکھ سکتے تھے نہ پہنچ سکتا تھا مگر الحمد للہ کہ آج ۹۔ اگست کو ان کا اٹھارہ جولائی کا لکھا ہو ا خط ملا ہے جس سے یہ خوشخبری معلوم ہوتی ہے کہ آخر اس ملک میں بھی احمدی جماعت تیار ہو گئی ہے اور باقاعدہ انجمن بن گئی ہے۔ اس دوست کو روسی علاقہ میں داخل ہو کر جو سنسی خیز حالات پیش آئے وہ نہایت اختصار سے انہوں نے لکھے ہیں لیکن اس اختصار میں بھی ایک صاحب بصیرت کے لئے کافی تفصیل موجود ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کے تجربات سے دوسرے بھائی فائدہ اٹھا کر اپنے اخلاص میں ترقی