انوارالعلوم (جلد 7) — Page 276
انوار العلوم جلدے ۲۷۶ تحریک شد هی مکانا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میدان ارتداد میں مبلغین کی اشد ضرورت (فرموده ۵- نومبر ۱۹۲۳ء) ۵- نومبر تیسری سہ ماہی کے تیسرے وفد کے علاقہ ارتداد کو روانہ ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے گاؤں سے باہر ایک کھیت میں حسب ذیل تقریر فرمائی اس دفعہ ملکانا میدان کی طرف آپ لوگ جو جا رہے ہیں چوتھے وند کے راول کے طور پر ہیں۔ تیسرے وفد کے بعض لوگ جن کی مدتیں پوری ہو گئی ہیں یا ہونے والی ہیں آپ لوگ ان کے قائم مقام بن کر جا رہے ہیں اور اب گویا 9 ماہ کے قریب اس کام کو شروع کئے ہو گئے ہیں جو علاقہ ملک نا میں کیا جا رہا ہے ۔ پہلا وفد جب گیا تھا اس وقت گو خداتعالی نے مجھے یہ بات بتادی تھی اور بارہا میں نے اس کو بیان بھی کر دیا تھا لیکن باقی جماعت میں اس کے متعلق احساس پیدا نہیں ہوا تھا کہ کب عظیم الشان طور پر ہمیں یہ کوشش کرنی پڑے گی اور اس کے لئے کتنی قربانیوں کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت بہت لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ پہلی سہ ماہی میں ہی ہمیں فتح حاصل ہو جائے گی اور بعض تو ایسے جلد باز تھے کہ انہوں نے علاقہ ارتداد میں جانے کے ۲۰-۲۵ دن ہی بعد خط لکھنے شروع کر دیئے کہ ہمیں اتنے دن کام کرتے ہو گئے ہیں مگر ابھی تک یہ لوگ ارتداد سے واپس نہیں ہوئے ۔ گویا وہ سمجھتے تھے کہ جاتے ہی ان کو مسلمان کر لیں گے اور اس میں کچھ بھی دیر اور وقت نہ لگے گا حالانکہ جو لوگ اپنا مذہب بدلتے ہیں وہ دو حالتوں کے بغیر نہیں بدلتے ۔ اول تو یہ کہ یا تو ان کو یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں مذہب سچا ہے اس لئے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بحیثیت قوم اس وقت تک واپس نہیں لوٹ سکتے جب تک ان کے لئے پورا زور نہ صرف کیا جائے اور ان کے شکوک اور شبہات کو دور نہ کر دیا جائے۔ دوسرے اپنا مذہب کوئی اس وقت چھوڑتا ہے جب تقوی و طہارت، عفت اور خوف خدا اس کے دل سے بالکل مٹ جاتا ہے اور طمع ولالچ حرص و ہوا اس کے دل پر پورا پورا قبضہ کر لیتی