انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 270

انوار العلوم جلد ہے ۲۷۰ تحریک شد هی ملکانا جو آتا ہے کہ شیطان کو قتل کرے گا اس کا یہ مطلب ہے کہ عیسائیت کے زور کو توڑ دے گا عیسائیت کی بنیاد کو اکھیڑ دے گا۔ اس وقت عیسائی کہیں گے ہماری دنیاوی ترقی عیسائیت کی صداقت کا ثبوت ہے چنانچہ اس زمانہ میں کہتے ہیں ایسی زبردست اور با حکومت قوم جو ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ مسیح موعود کا یہ کام ہو گا کہ اس کے زور کو توڑ دے گا ورنہ کفر تو قیامت تک رہے گا۔ پس ہم جنگ سے نہیں ڈرتے اور نہ نا ممکنات کے لئے امید میں لگاتے ہیں کیونکہ اس قسم کی امید رکھنا کفر ہے اس لئے ہم یہ تو امید نہیں رکھتے کہ جنگ ختم ہو جائے بلکہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جنگ کی نوعیت بدل جائے اور نوعیت بدلتی رہتی ہے جس سے اس میں حصہ لینے والوں کی ہمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔ دیکھو ایک قسم کا کھانا بھی انسان روز نہیں کھا سکتا کیونکہ انسان اکتا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک قسم کی جنگ بھی چونکہ اکتا دیتی ہے اس لئے خدا تعالٰی اس کی نوعیت بدلتا رہتا ہے۔ آج اگر اس قوم سے جنگ ہے تو کل اور سے ۔ پس ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالٰی اس جنگ کی نوعیت کو بدل دے اور ہم اس علاقہ سے فارغ ہو کر کسی اور علاقہ میں جائیں۔ اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس کام کے لئے وہ چلے ہیں اس کے لئے اس رنگ میں جب تک کوشش نہ کریں گے جو ضروری ہے اس وقت تک کامیاب نہ ہوں گے۔ پہلے دیکھا گیا ہے کہ جانے والے یہاں سے ہدایات نوٹ کر کے لے گئے مگر وہاں جا کر ان پر پورا پورا عمل نہیں کیا گیا۔ میں نے سب سے ضروری نصیحت جانے والوں کو یہ کی تھی کہ جہاں اور جس مقام پر رہو وہاں کے لوگوں سے واقفیت اور دوستانہ تعلقات پیدا کرو مگر معلوم ہوا کہ بعض لوگ ایک گاؤں میں دو دو ماہ تک رہے اور جب انسپکٹر نے جاکر ان سے پوچھا تو کہہ دیا کہ یہاں کے چار پانچ آدمیوں سے واقفیت پیدا کی ہے۔ گویا وہ صرف چار پانچ آدمیوں کو ہی تبلیغ کرتے رہے اور باقی سب کو نظر انداز کر دیا ۔ وہ مبلغ جو کسی گاؤں میں تبلیغ کے لئے مقرر کیا جاتا ہے وہاں کا اگر ایک آدمی بھی ایک بچہ بھی ایسا رہ جاتا ہے جس کے ساتھ اس نے باتیں نہ کیں، واقفیت نہ پیدا کی، تبلیغ نہ کی تو وہ کامیاب نہیں کہلا سکتا۔ جہاں جہاں مبلغ بھیجے جاتے ہیں وہ کوئی شہر تو نہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں اور اگر کوئی بڑا گاؤں ہو تو وہاں مبلغ بھی زیادہ رکھے جاتے ہیں اور اس طرح سو ڈیڑھ سو آدمی ایک مبلغ کے حصہ میں آتا ہے اتنے لوگوں سے جو شخص واقفیت نہیں پیدا کر سکتا وہ کام کیا کر سکتا ہے۔ دیکھو باہر کے جو لوگ یہ خیال کرکے آتے ہیں کہ قادیان میں وہ لوگ رہتے ہیں جنہوں نے