انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 268

انوار العلوم جلدے ۲۶۸ تحریک شد هی ملکانا فاقے کرنے پڑتے ہیں۔ ابھی ایک جہاز ڈوب گیا ہے اس سے جو لوگ بچے انہیں میں دن تک فاقہ سے رہنا پڑا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر فاقہ برداشت کرنے کی انسان میں طاقت ہے ۔ اور جب مجبوری میں اتنا فاقہ کیا جا سکتا ہے تو خدا کے لئے کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ پس تم لوگ ایسی فرمانبرداری سے کام کرو جیسے فوجی سپاہی کرتے ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ایسی فرمانبرداری دکھاؤ جیسی صحابہ دکھاتے تھے کیونکہ فوجی سپاہی توپ خانے کے ڈر سے کام کرتے ہیں مگر صحابہ کو تو اس کا ڈر نہیں ہوتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی جن کا نام ضرار تھا جب دشمن کے مقابلہ میں نکلے تو بھاگے بھاگے واپس آگئے۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے تھے اس نے ہمیں مسلمان مار دیئے تھے۔ سمجھا گیا کہ اس کے ڈر سے واپس بھاگ آئے ہیں لیکن جب پھر گئے اور واپس آنے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا میں بغیر زرہ کے لڑا کرتا ہوں مگر آج زرہ پہنی ہوتی ہے جب میں مقابلہ پر گیا تو مجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ اگر اس حالت میں میں مارا گیا تو سخت گرفت میں آؤں گا کہ آج کا فر سے ڈر کر میں نے زرہ پہن لی اس لئے میں دوڑتا ہوا گیا اور اب اتار کر آیا ہوں گے اور دشمن کو انہوں نے قتل کر دیا ۔ تو سپاہی کی لڑائی صحابی کی لڑائی کے مقابلہ میں نہیں آسکتی سپاہی لالچ اور ڈر کے لئے لڑتا ہے لیکن صحابی خدا کے لئے لڑتا ہے۔ تمہاری اطاعت صحابہ جیسی ہونی چاہئے اور ان کی اطاعت ایسی تھی کہ جو مخلص تھے وہ کسی حالت میں بھی نافرمانبرداری نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ رسول کریم اللہ نے مسجد میں لوگوں کو فرمایا بیٹھ جاؤ۔ عبد اللہ بن مسعود گلی میں سے گزر رہے تھے ان کے لئے یہ حکم نہ تھا لیکن جب ان کے کان میں یہ آواز پڑی تو وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے چل کر مسجد میں آئے ہے ہر ایک مومن میں فرمانبرداری ایک نہات ضروری امر ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس جماعت کے لئے جو چھوٹی ہو ورنہ لاکھ میں سے ایک بھی ایسا چانس نہیں کہ وہ کامیاب ہو سکے ۔ پس تم لوگ اپنے افسروں کی کامل فرمانبرداری سے کام کرو اور اس بات کو خوب یاد رکھو ۔ میاں غلام رسول صاحب ریڈر پشاور جو یہاں پڑھتے بھی رہے ہیں اس وجہ سے سابق ہونے کے خیال سے اس وفد کا میں نے ان کو امیر مقرر کیا ہے۔ رستہ میں جس طرح کہیں اور جو انتظام کریں سب کو اس کی پابندی کرنی چاہئے ۔ اور وہاں پہنچ کر امیروند چودہری فتح محمد صاحب سیال ہیں ان کی اطاعت فرض ہے پھر وہ جس کے سپرد کریں ان کی اطاعت ضروری ہے۔ اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تم کو بھی اور جو دوست جاچکے ہیں ان کو بھی کامیابی کا سہرا عطا فرمائے ۔ (الفضل ۲- جولائی ۱۹۲۳ء)