انوارالعلوم (جلد 7) — Page 265
انوار العلوم جلدے ۲۶۵ تحریک شد سی ملکانا کلرک سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جب یہ حالت ہو تو وہ افسر کس طرح ان افسروں کی طرح تجاویز سوچ سکتا ہے جو خود کلرکوں کی نگرانی بھی نہیں کرتے اس کے لئے نگران سپرنٹنڈنٹ اور ہوتے ہیں افسر بڑے بڑے معاملات پر غور کرتا رہتا ہے۔ پس ہمارے لئے اس قدر مشکلات ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی نصرت شامل حال نہ ہو تو ہم کچھ بھی نہ کر سکیں ۔ ہم نے ہندوستان سے باہر جو تبلیغی کام شروع کر رکھے ہیں وہاں اس قدر خرچ ہو رہا ہے کہ اس کے لئے خاص چندے کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اب ملکانہ تبلیغ کے اخراجات اتنے کئے جارہے ہیں کہ سب بیرونی تبلیغی کاموں سے زیادہ ہیں۔ سب نظارتوں کا تین ہزار کے قریب ماہوار خرچ کا اندازہ ہے۔ مگر اس اکیلے کام کا اتنا خرچ ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ حسابات کی بڑی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے اور مبلغ آنریری ہیں ۔ ادھر جماعت کی یہ حالت ہے کہ اس پر چندہ کا انتنا بار ہے کہ دنیا میں اس کی دوسری کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ دوسرے لوگ بھی چندہ جمع کرتے ہیں مگر مستقل طور پر اتنا چندہ دیں جتنا ہماری جماعت جماعت مستقل طور پر دیتی ہے اس کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی ۔ مگر باوجود اس کے ہماری جماعت جتنا چندہ دے رہی ہے وہ ہمارے کاموں کے لئے کافی نہیں اس کے لئے ہم جس قدر زور دے سکتے تھے دے چکے ہیں۔ اس سے زیادہ جماعت میں برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ ایسی صورت میں اگر یہ انسانی کام ہوتا تو سوائے اس کے کہ جس طرح ایک چیز پر جب زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو وہ اپنی طاقت کی آخری حد پر پہنچ کر پھٹ جاتی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے یہی ہمارا حال ہو مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں بلکہ خدا کا کام ہے۔ اور ہمارے نقصوں ہماری کمزوریوں اور ہماری بے سامانیوں کی وجہ سے خراب نہیں ہو گا بلکہ جب یہی بے سامانیاں اپنی آخری حد کو پہنچ جائیں گی تو خدا تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت نازل ہو گی کیونکہ خدا تعالیٰ جب دیکھے گا کہ ان کے پاس جو کچھ تھا انہوں نے دے دیا اور اب ان کے پاس کچھ نہیں تو میرا خزانہ جس میں کبھی کمی نہیں آسکتی اس کو ان کے لئے کیوں نہ کھول دوں۔ انہوں نے جب سب کچھ کھو کر دین کی خدمت کی ہے تو میں سب کچھ رکھ کر کیوں نہ ان کی مدد کروں۔ پس یہی وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کی خاص مدد نازل ہوتی ہے ۔ ہماری جماعت کے متعلق ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا جب تک ہم خدا کی رضا کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ میری خلافت کے اس آٹھ نو سال کے عرصہ میں کیسے کیسے خطرناک حملے پیغامیوں اور غیر احمدیوں نے کئے مگر جب یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ اب تباہ ہو جائیں گے اس وقت خدا تعالی کی طرف سے ایسی نصرت نازل ہوئی کہ یہ